بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1265 — باب: امام فجر پڑھا رہا ہو اور آدمی نے سنت نہ پڑھی ہو تو اس وقت نہ پڑھے۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل باب: امام فجر پڑھا رہا ہو اور آدمی نے سنت نہ پڑھی ہو تو اس وقت نہ پڑھے۔ حدیث 1265
حدیث نمبر: 1265 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا فُلَانُ، أَيَّتُهُمَا صَلَاتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ، أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا؟".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا: اے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 9 (712)، سنن النسائی/الإمامة 61 (869)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 103 (1152)، (تحفة الأشراف: 5319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/82) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کھڑی ہونے کے بعد اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ امام کو جس حالت میں بھی پائے اس کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جائے اور اس وقت سنت نہ پڑھے خواہ وہ فجر ہی کی سنت کیوں نہ ہو، اور سنت کی دو رکعت فرض کی نماز کے بعد پڑھ لے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (712)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1264) باب پر واپس اگلی حدیث (1266) →