مُسَدَّدٌ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَمَّنْ ، ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَه ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَو، غَيْرُهُ، عَن أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 17 (743)، وفیہ ’’زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب‘‘ بلا شک (تحفة الأشراف: 17707، 17732) (صحیح لغیرہ)» (حدیث نمبر 1336 سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (1262)
الحكم: صحيح