بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1243 — باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر ٹکڑی کو ایک رکعت پڑھائے پھر وہ سلام پھیر دے اس کے بعد ہر صف کے لوگ کھڑے ہوں اور خود سے اپنی اپنی ایک رکعت ادا کریں۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر ٹکڑی کو ایک رکعت پڑھائے پھر وہ سلام پھیر دے اس کے بعد ہر صف کے لوگ کھڑے ہوں اور خود سے اپنی اپنی ایک رکعت ادا کریں۔ حدیث 1243
حدیث نمبر: 1243 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ نَافِعٌ، وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ قَوْلُ مَسْرُوقٍ، وَيُوسُفُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَى يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ فَعَلَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہو گئی اور وہ جماعت (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے) آ گئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی (جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے) کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الخوف 1 (942)، المغازي 31 (4133)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (839)، سنن الترمذی/الصلاة 281 (الجمعة 46) (564)، سنن النسائی/الخوف 18 (1539)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 151 (1258)، (تحفة الأشراف: 6931)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/147) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4133) صحيح مسلم (839)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1242) باب پر واپس اگلی حدیث (1244) →