مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری (رکعت) بھی اسی طرح پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الکسوف 4 (908)، سنن الترمذی/الصلاة 279 (الجمعة 44) (560)، سنن النسائی/الکسوف 8 (1468-1469)، (تحفة الأشراف: 5697)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 216، 225، 298، 346، 358)، سنن الدارمی/ الصلاة 187(1534)» (تین طریق سے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں دو رکوع، اور دو سجدہ کا تذکرہ ہے، اس لئے علماء کے قول کے مطابق حبیب نے ثقات کی مخالفت کی ہے، اور یہ مدلس ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے) (ملاحظہ ہو: ضعیف سنن ابی داود 2؍ 20)
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (909)
الحكم: منكر