عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، اللَّيْثُ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ بِحِذَاءِ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِنَا" وَسَاقَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، پھر راوی نے عبدالعزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی «اللهم اسقنا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما“ اور آگے انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الاستسقاء 6 (1013)، 7 (1014)، 9 (1016)، 10 (1017)، صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (897)، سنن النسائی/الاستسقاء 1 (1505)، (تحفة الأشراف: 906) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1013) صحيح مسلم (897)
الحكم: صحيح