مُسَدَّدٌ ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ:" فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَمَشَى إِلَيْهِنَّ وَبِلَالٌ مَعَهُ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ" فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا، تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5883) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)
الحكم: صحيح