أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٍ ، الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، طَلْحَةَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزْ فِيهِمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سلیک رضی اللہ عنہ آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2339)، مسند احمد (3/297) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس ٹکڑے سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کر ان کا تعاون کریں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (1117)
الحكم: صحيح