بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1113 — باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو بات چیت منع ہے۔
کتب سنن ابو داؤد ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو بات چیت منع ہے۔ حدیث 1113
حدیث نمبر: 1113 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، يَزِيدُ ، حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: رَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو وَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَدْعُو فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں: ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ۱؎، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود،(تحفة الأشراف: 8668)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181، 214) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1396)
صححه ابن خزيمة (1813 وسنده حسن)
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (1112) باب پر واپس اگلی حدیث (1114) →