مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ" قُمْ أَوِ اذْهَبْ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: «من يطع الله ورسوله ومن يعصهما» تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجمعة 13 (870)، سنن النسائی/النکاح 40 (3281)، (تحفة الأشراف: 9850)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/256، 379) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «بئس الخطيب أنت» اس لئے فرمایا کہ «ومن يعصهما» (جو ان دونوں کی نافرمانی کرے) کے الفاظ آپ کو ناگوار لگے، کیوں کہ خطیب نے ایک ہی ضمیر میں اللہ اور رسول دونوں کو یکجا کر دیا، جس سے دونوں کے درمیان برابری ظاہر ہو رہی تھی، خطیب کو چاہئے تھا کہ وہ اللہ اور رسول دونوں کو الگ الگ ذکر کرے بالخصوص خطبہ میں ایسا نہیں کرنا چاہئے، کیوں کہ خطبہ تفصیل اور وضاحت کا مقام ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (870)
الحكم: صحيح