النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَالَ: فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جمعہ کے دن) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، (تحفة الأشراف: 2156)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 32 (1416)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1105)، مسند احمد (5/89، 90، 91، 92، 93، 94، 95، 97، 98، 99، 100، 101، 102، 107)، سنن الدارمی/الصلاة 199(1598) (حسن)»
وضاحت
۱؎: یعنی ان میں (۵۰) جمعے بھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، یہ مراد نہیں کہ میں نے دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، کیونکہ دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کے وقت سے لے کر وفات تک بھی نہیں ہوتے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (862)
الحكم: حسن