هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَبْدَةُ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ بِلَالٌ" ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا ۱؎۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1087، (تحفة الأشراف: 3799) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بلال، ابن ام مکتوم، ابومحذورہ اور سعد القرط رضی اللہ عنھم پر مشتمل مؤذنین کی ایک جماعت تھی، پھر یہ کہنا کیسے صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور مؤذن نہیں تھا؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور مؤذن نہیں تھا، کیونکہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں یہ منقول نہیں ہے کہ وہ جمعہ کی اذان دیتے تھے، اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے مؤذن تھے اورسعد القرط رضی اللہ عنہ قبا کے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1088)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
الحكم: صحيح