أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن النسائی/العیدین 4 (1561)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2068)
الحكم: صحيح