بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1034 — باب: دو رکعت پر بغیر تشہد پڑھے اٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو کرے؟
کتب سنن ابو داؤد ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: دو رکعت پر بغیر تشہد پڑھے اٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو کرے؟ حدیث 1034
حدیث نمبر: 1034 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْتَظَرْنَا التَّسْلِيمَ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور قعدہ (تشھد) نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کر لی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله أكبر کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 146 (829)، 147 (830)، والسھو 1 (1224)، 5 (1230)، والأیمان 15 (6670)، صحیح مسلم/المساجد 19 (570)، سنن الترمذی/الصلاة 172 (391)، سنن النسائی/التطبیق 106 (1178، 1179)، والسھو 28 (1262)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 131 (1206)، (تحفة الأشراف: 9154)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 17(65)، مسند احمد (5/345، 346)، سنن الدارمی/الصلاة 176 (1540) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1224) صحيح مسلم (570)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1033) باب پر واپس اگلی حدیث (1035) →