بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1026 — باب: جب دو یا تین رکعت میں شک ہو جائے تو شک کو دور کرے (اور کم کو اختیار کرے) اس کے قائلین کی دلیل کا ذکر۔
کتب سنن ابو داؤد ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: جب دو یا تین رکعت میں شک ہو جائے تو شک کو دور کرے (اور کم کو اختیار کرے) اس کے قائلین کی دلیل کا ذکر۔ حدیث 1026
حدیث نمبر: 1026 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں (سجدوں) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہو جائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1024)، (تحفة الأشراف: 4163، 19091) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث بھی حدیث نمبر: (1024) کی طرح مرفوع اور متصل ہے، اس میں امام مالک نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جان بوجھ کر حذف کر دیا ہے جیسا کہ ان کا طریقہ ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
وللحديث شواھد عند ابن عبد البر في التمھيد (5/20 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1025) باب پر واپس اگلی حدیث (1027) →