بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1022 — باب: کوئی بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرے؟
کتب سنن ابو داؤد ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: کوئی بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرے؟ حدیث 1022
حدیث نمبر: 1022 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، جَرِيرٌ ، يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، جَرِيرٌ ، الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَهَذَا حَدِيثُ يُوسُفَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ:" لَا" قَالُوا: فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، پھر جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مڑے اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم لوگ بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/ المساجد 19 (572)، سنن النسائی/السہو 26 (1257، 1258)، (تحفة الأشراف: 9409)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/438، 448) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (572)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1021) باب پر واپس اگلی حدیث (1023) →