بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عمل بہت کرنا اور عبادت میں کوشش کرنا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال باب: عمل بہت کرنا اور عبادت میں کوشش کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 2819 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: " أَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنی (اتنی لمبی) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت فرما دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7124]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7124 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: " أَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنی (اتنی لمبی) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت فرما دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7124]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2819 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَتَّى وَرِمَتْ قَدَمَاهُ، قَالُوا: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنا (اتنا لمبا) قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں (پھر اس قدر مشقت کیوں؟) تو آپ نے فرمایا: کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7125]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7125 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَتَّى وَرِمَتْ قَدَمَاهُ، قَالُوا: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنا (اتنا لمبا) قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں (پھر اس قدر مشقت کیوں؟) تو آپ نے فرمایا: کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7125]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2820 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، ابْنِ قُسَيْطٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو (بہت لمبا) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسا کرتے ہیں، حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی (یقین دہانی کرائی) جا چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا میں (اللہ تعالیٰ کا) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7126 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، ابْنِ قُسَيْطٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو (بہت لمبا) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسا کرتے ہیں، حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی (یقین دہانی کرائی) جا چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا میں (اللہ تعالیٰ کا) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة