بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مومنوں پر اللہ کی رحمت کی وسعت اور دوزخ سے نجات کے لیے ہر مسلمان کے عوض ایک کافر کا فدیہ۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم توبہ کا بیان باب: مومنوں پر اللہ کی رحمت کی وسعت اور دوزخ سے نجات کے لیے ہر مسلمان کے عوض ایک کافر کا فدیہ۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 2767 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا، فَيَقُولُ: هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
طلحہ بن یحییٰ نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ (ایک مرحلے پر) ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی عطا کر دے گا، پھر فرمائے گا: یہ جہنم سے تمہارے لیے چھٹکارے کا ذریعہ بنے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7011]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7011 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا، فَيَقُولُ: هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
طلحہ بن یحییٰ نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ (ایک مرحلے پر) ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی عطا کر دے گا، پھر فرمائے گا: یہ جہنم سے تمہارے لیے چھٹکارے کا ذریعہ بنے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7011]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2767 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَوْنًا ، وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبَا بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا "، قَالَ: فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَلَفَ لَهُ، قَالَ: فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عفان بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہمام نے قتادہ سے حدیث بیان کی کہ عون (بن عبداللہ) اور سعید بن ابی بردہ نے انہیں حدیث بیان کی، وہ دونوں ابوبردہ کے سامنے موجود تھے جب وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر ایک یہودی یا ایک نصرانی کو دوزخ میں داخل کر دیتا ہے۔ کہا: عمر بن عبدالعزیز نے حضرت ابوبردہ کو تین بار اس اللہ کی قسم دی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ واقعی ان کے والد نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی تھی۔ انہوں نے ان (عمر بن عبدالعزیز) کے سامنے قسم کھائی۔ (قتادہ نے) کہا: سعید نے مجھ سے یہ بیان نہیں کیا کہ انہوں نے ان سے قسم لی اور نہ انہوں نے عون کی (بتائی ہوئی) بات پر کوئی اعتراض کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7012]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7012 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَوْنًا ، وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبَا بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا "، قَالَ: فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَلَفَ لَهُ، قَالَ: فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عفان بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہمام نے قتادہ سے حدیث بیان کی کہ عون (بن عبداللہ) اور سعید بن ابی بردہ نے انہیں حدیث بیان کی، وہ دونوں ابوبردہ کے سامنے موجود تھے جب وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر ایک یہودی یا ایک نصرانی کو دوزخ میں داخل کر دیتا ہے۔ کہا: عمر بن عبدالعزیز نے حضرت ابوبردہ کو تین بار اس اللہ کی قسم دی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ واقعی ان کے والد نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی تھی۔ انہوں نے ان (عمر بن عبدالعزیز) کے سامنے قسم کھائی۔ (قتادہ نے) کہا: سعید نے مجھ سے یہ بیان نہیں کیا کہ انہوں نے ان سے قسم لی اور نہ انہوں نے عون کی (بتائی ہوئی) بات پر کوئی اعتراض کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7012]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2767 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَفَّانَ، وَقَالَ عَوْنُ بْنُ عُتْبَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالصمد بن عبدالوارث سے روایت ہے، کہا: ہمیں ہمام نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے اسی سند کے ساتھ عفان کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور (عون بن عبداللہ کی نسبت اس کے دادا کی طرف کرتے ہوئے) کہا: عون بن عتبہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7013]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7013 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَفَّانَ، وَقَالَ عَوْنُ بْنُ عُتْبَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالصمد بن عبدالوارث سے روایت ہے، کہا: ہمیں ہمام نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے اسی سند کے ساتھ عفان کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور (عون بن عبداللہ کی نسبت اس کے دادا کی طرف کرتے ہوئے) کہا: عون بن عتبہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7013]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2767 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِذُنُوبٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ، فَيَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ، وَيَضَعُهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِيمَا أَحْسِبُ أَنَا "، قَالَ أَبُو رَوْحٍ: لَا أَدْرِي مِمَّنْ الشَّكُّ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: أَبُوكَ حَدَّثَكَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابوروح) حرمی بن عمارہ نے کہا: ہمیں شداد ابوطلحہ راسبی نے غیلان بن جریر سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑوں جیسے (بڑے بڑے) گناہ لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ گناہ بخش دے گا، اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں، وہ ان (گناہوں) کو یہود اور نصاریٰ پر ڈال دے گا۔ ابوروح نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ شک کس (راوی) کی طرف سے ہے۔ حضرت ابوبردہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی، انہوں نے کہا: کیا تمہارے والد نے تمہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کی تھی؟ میں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7014]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7014 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِذُنُوبٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ، فَيَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ، وَيَضَعُهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِيمَا أَحْسِبُ أَنَا "، قَالَ أَبُو رَوْحٍ: لَا أَدْرِي مِمَّنْ الشَّكُّ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: أَبُوكَ حَدَّثَكَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابوروح) حرمی بن عمارہ نے کہا: ہمیں شداد ابوطلحہ راسبی نے غیلان بن جریر سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑوں جیسے (بڑے بڑے) گناہ لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ گناہ بخش دے گا، اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں، وہ ان (گناہوں) کو یہود اور نصاریٰ پر ڈال دے گا۔ ابوروح نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ شک کس (راوی) کی طرف سے ہے۔ حضرت ابوبردہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی، انہوں نے کہا: کیا تمہارے والد نے تمہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کی تھی؟ میں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7014]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2768 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، قَتَادَةَ ، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى؟، قَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ؟، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَعْرِفُ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ، فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتادہ نے صفوان بن محرز سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نجویٰ (مومن سے اللہ کی سرگوشی) کے متعلق کس طرح سنا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مومن کو قیامت کے دن اس کے رب عزوجل کے قریب کیا جائے گا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا (تاکہ کوئی اور اس کے راز پر مطلع نہ ہو)، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا: کیا تو (ان سب گناہوں کو) پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا: میرے رب! میں (ان سب گناہوں کو) پہچانتا ہوں۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: میں نے دنیا میں تم پر (رحم کرتے ہوئے) ان گناہوں کو چھپا لیا تھا اور آج (تم پر رحم کرتے ہوئے) تمہارے لیے ان سب کو معاف کرتا ہوں، پھر اسے (محض) اس کی نیکیوں کا صحیفہ پکڑا دیا جائے گا اور رہے کفار اور منافقین تو ساری مخلوقات کے سامنے بلند آواز سے انہیں کہا جائے گا: یہی ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7015]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7015 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، قَتَادَةَ ، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى؟، قَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ؟، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَعْرِفُ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ، فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتادہ نے صفوان بن محرز سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نجویٰ (مومن سے اللہ کی سرگوشی) کے متعلق کس طرح سنا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مومن کو قیامت کے دن اس کے رب عزوجل کے قریب کیا جائے گا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا (تاکہ کوئی اور اس کے راز پر مطلع نہ ہو)، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا: کیا تو (ان سب گناہوں کو) پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا: میرے رب! میں (ان سب گناہوں کو) پہچانتا ہوں۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: میں نے دنیا میں تم پر (رحم کرتے ہوئے) ان گناہوں کو چھپا لیا تھا اور آج (تم پر رحم کرتے ہوئے) تمہارے لیے ان سب کو معاف کرتا ہوں، پھر اسے (محض) اس کی نیکیوں کا صحیفہ پکڑا دیا جائے گا اور رہے کفار اور منافقین تو ساری مخلوقات کے سامنے بلند آواز سے انہیں کہا جائے گا: یہی ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7015]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة