بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم کتاب الرقاق باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 2743 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ضَمْرَةَ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ضَمْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ فَادْعُوا اللَّهَ تَعَالَى بِهَا لَعَلَّ اللَّهَ يَفْرُجُهَا عَنْكُمْ، فَقَالَ: أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَامْرَأَتِي وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا أَرَحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ، فَسَقَيْتُهُمَا قَبْلَ بَنِيَّ، وَأَنَّهُ نَأَى بِي ذَاتَ يَوْمٍ الشَّجَرُ، فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ اللَّهُ مِنْهَا فُرْجَةً فَرَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، وَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا، فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَتَعِبْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَجِئْتُهَا بِهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً فَفَرَجَ لَهُمْ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ، قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَقَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا فَجَاءَنِي، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَظْلِمْنِي حَقِّي، قُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ خُذْ ذَلِكَ الْبَقَرَ وَرِعَاءَهَا، فَأَخَذَهُ فَذَهَبَ بِهِ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللَّهُ مَا بَقِيَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
انس بن عیاض ابوضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: تین آدمی پیدل چلے جا رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا، انہوں نے پہاڑ میں ایک غار کی پناہ لی، تو (اچانک) ان کے غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان آ گری اور ان کے اوپر آ کر انہیں ڈھانک دیا، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم اپنے ان نیک اعمال پر نظر ڈالو جو تم نے (صرف اور صرف) اللہ کے لیے کیے ہوں اور ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، شاید وہ اس بندش اور قید سے تمہیں آزاد کر دے۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا: «اللہم» اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین، بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کی میں نگہداشت کرتا ہوں۔ جب شام کو میں اپنے جانور (چرانے کے بعد انہیں) ان کے پاس واپس آتا، ان کا دودھ دوہتا تو آغاز اپنے والدین سے کرتا اور اپنے بچوں سے پہلے انہیں پلاتا تھا۔ ایک دن (مویشیوں کے چرنے کے قابل) درختوں کی تلاش مجھے بہت دور لے گئی، میں رات سے پہلے گھر نہ پہنچ سکا۔ میں نے انہیں پایا کہ وہ دونوں سو چکے ہیں۔ میں نے جس طرح (ہر روز) دودھ نکالا کرتا تھا نکالا اور وہ ڈوبا ہوا دودھ لے کر ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ مجھے یہ بھی ناپسند تھا کہ ان کو نیند سے جگاؤں اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ ان سے پہلے بچوں کو پلاؤں، بچے بھوک کی شدت سے بلکتے ہوئے میرے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو رہے تھے، میں اسی حال میں (کھڑا) رہا اور وہ بھی اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح طلوع ہو گئی۔ (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا ہے تو اس (غار کے بند منہ) میں اتنا سوراخ کر دے کہ ہم آسمان کو دیکھ لیں۔ اللہ نے اس میں ایک سوراخ کر دیا کہ وہ آسمان کو دیکھنے لگے۔ اور دوسرا (ساتھی) کہنے لگا: «اللہم» اے اللہ! میری ایک چچا زاد تھی، میں اس سے وہی شدید محبت کرتا تھا جو ایک مرد عورت سے کرتا ہے۔ میں نے اس سے اپنے لیے (خود) اسی کو مانگا۔ اس نے اس وقت تک (میری بات ماننے سے) انکار کر دیا، یہاں تک کہ میں اسے (سونے کے) سو دینار لا کر دوں۔ میں انہیں حاصل کرنے میں لگ گیا یہاں تک کہ سو دینار اکٹھے کر لیے، پھر جب میں اس کے دونوں قدموں کے درمیان پہنچا تو وہ کہنے لگی: اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور حق (نکاح) کے بغیر مہر (بکارت) نہ توڑ۔ تو (تیرا نام سن کر) میں اس سے (الگ ہو کر) کھڑا ہو گیا۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تجھے راضی کرنے کے لیے کیا تھا تو اس میں (اور زیادہ) سوراخ کر دے۔ (اللہ نے) ان کے لیے (اور زیادہ) سوراخ کر دیا۔ اور تیسرے نے (دعا کرتے ہوئے) کہا: «اللہم» اے اللہ! میں نے ایک مزدور کو چاولوں کے ایک فرق (تین صاع، تقریباً ساڑھے سات کلو گرام) کی اجرت کے عوض کام پر لگایا۔ جب اس نے اپنا کام پورا کر لیا تو کہا: میرا حق (اجرت) ادا کرو۔ میں نے اسے اس کا فرق (تین صاع چاول) پیش کیا۔ وہ (اسے کم قرار دیتے ہوئے) اس کو چھوڑ کر چلا گیا۔ میں مسلسل اس (تین صاع چاولوں) کو کاشت کرنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اس (کی آمدنی) سے گائے (کے بہت سے ریوڑ) اور ان کو چرانے والے (غلام) اکٹھے کر لیے۔ پھر (مدت بعد) وہ میرے پاس (واپس) آیا اور کہا: اللہ سے ڈرو، میرے حق میں مجھ پر ظلم نہ کرو۔ میں نے کہا: ان گایوں (کے ریوڑوں) اور انہیں چرانے والے (غلاموں) کی طرف جاؤ اور انہیں لے لو۔ اس نے کہا: اللہ سے ڈرو! میرے ساتھ مذاق تو نہ کرو۔ میں نے کہا: میں مذاق نہیں کر رہا، یہ سب گائیں اور ان کو چرانے والے (غلام) لے جاؤ، وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تجھے راضی کرنے کے لیے کیا تھا تو جو حصہ باقی رہ گیا ہے، اسے بھی کھول دے۔ اللہ نے باقی حصہ بھی کھول دیا (اور وہ آزاد ہو کر غار سے باہر نکل آئے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6949]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6949 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ضَمْرَةَ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ضَمْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ فَادْعُوا اللَّهَ تَعَالَى بِهَا لَعَلَّ اللَّهَ يَفْرُجُهَا عَنْكُمْ، فَقَالَ: أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَامْرَأَتِي وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا أَرَحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ، فَسَقَيْتُهُمَا قَبْلَ بَنِيَّ، وَأَنَّهُ نَأَى بِي ذَاتَ يَوْمٍ الشَّجَرُ، فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ اللَّهُ مِنْهَا فُرْجَةً فَرَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، وَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا، فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَتَعِبْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَجِئْتُهَا بِهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً فَفَرَجَ لَهُمْ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ، قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَقَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا فَجَاءَنِي، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَظْلِمْنِي حَقِّي، قُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ خُذْ ذَلِكَ الْبَقَرَ وَرِعَاءَهَا، فَأَخَذَهُ فَذَهَبَ بِهِ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللَّهُ مَا بَقِيَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
انس بن عیاض ابوضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: تین آدمی پیدل چلے جا رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا، انہوں نے پہاڑ میں ایک غار کی پناہ لی، تو (اچانک) ان کے غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان آ گری اور ان کے اوپر آ کر انہیں ڈھانک دیا، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم اپنے ان نیک اعمال پر نظر ڈالو جو تم نے (صرف اور صرف) اللہ کے لیے کیے ہوں اور ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، شاید وہ اس بندش اور قید سے تمہیں آزاد کر دے۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا: «اللہم» اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین، بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کی میں نگہداشت کرتا ہوں۔ جب شام کو میں اپنے جانور (چرانے کے بعد انہیں) ان کے پاس واپس آتا، ان کا دودھ دوہتا تو آغاز اپنے والدین سے کرتا اور اپنے بچوں سے پہلے انہیں پلاتا تھا۔ ایک دن (مویشیوں کے چرنے کے قابل) درختوں کی تلاش مجھے بہت دور لے گئی، میں رات سے پہلے گھر نہ پہنچ سکا۔ میں نے انہیں پایا کہ وہ دونوں سو چکے ہیں۔ میں نے جس طرح (ہر روز) دودھ نکالا کرتا تھا نکالا اور وہ ڈوبا ہوا دودھ لے کر ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ مجھے یہ بھی ناپسند تھا کہ ان کو نیند سے جگاؤں اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ ان سے پہلے بچوں کو پلاؤں، بچے بھوک کی شدت سے بلکتے ہوئے میرے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو رہے تھے، میں اسی حال میں (کھڑا) رہا اور وہ بھی اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح طلوع ہو گئی۔ (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا ہے تو اس (غار کے بند منہ) میں اتنا سوراخ کر دے کہ ہم آسمان کو دیکھ لیں۔ اللہ نے اس میں ایک سوراخ کر دیا کہ وہ آسمان کو دیکھنے لگے۔ اور دوسرا (ساتھی) کہنے لگا: «اللہم» اے اللہ! میری ایک چچا زاد تھی، میں اس سے وہی شدید محبت کرتا تھا جو ایک مرد عورت سے کرتا ہے۔ میں نے اس سے اپنے لیے (خود) اسی کو مانگا۔ اس نے اس وقت تک (میری بات ماننے سے) انکار کر دیا، یہاں تک کہ میں اسے (سونے کے) سو دینار لا کر دوں۔ میں انہیں حاصل کرنے میں لگ گیا یہاں تک کہ سو دینار اکٹھے کر لیے، پھر جب میں اس کے دونوں قدموں کے درمیان پہنچا تو وہ کہنے لگی: اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور حق (نکاح) کے بغیر مہر (بکارت) نہ توڑ۔ تو (تیرا نام سن کر) میں اس سے (الگ ہو کر) کھڑا ہو گیا۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تجھے راضی کرنے کے لیے کیا تھا تو اس میں (اور زیادہ) سوراخ کر دے۔ (اللہ نے) ان کے لیے (اور زیادہ) سوراخ کر دیا۔ اور تیسرے نے (دعا کرتے ہوئے) کہا: «اللہم» اے اللہ! میں نے ایک مزدور کو چاولوں کے ایک فرق (تین صاع، تقریباً ساڑھے سات کلو گرام) کی اجرت کے عوض کام پر لگایا۔ جب اس نے اپنا کام پورا کر لیا تو کہا: میرا حق (اجرت) ادا کرو۔ میں نے اسے اس کا فرق (تین صاع چاول) پیش کیا۔ وہ (اسے کم قرار دیتے ہوئے) اس کو چھوڑ کر چلا گیا۔ میں مسلسل اس (تین صاع چاولوں) کو کاشت کرنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اس (کی آمدنی) سے گائے (کے بہت سے ریوڑ) اور ان کو چرانے والے (غلام) اکٹھے کر لیے۔ پھر (مدت بعد) وہ میرے پاس (واپس) آیا اور کہا: اللہ سے ڈرو، میرے حق میں مجھ پر ظلم نہ کرو۔ میں نے کہا: ان گایوں (کے ریوڑوں) اور انہیں چرانے والے (غلاموں) کی طرف جاؤ اور انہیں لے لو۔ اس نے کہا: اللہ سے ڈرو! میرے ساتھ مذاق تو نہ کرو۔ میں نے کہا: میں مذاق نہیں کر رہا، یہ سب گائیں اور ان کو چرانے والے (غلام) لے جاؤ، وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تجھے راضی کرنے کے لیے کیا تھا تو جو حصہ باقی رہ گیا ہے، اسے بھی کھول دے۔ اللہ نے باقی حصہ بھی کھول دیا (اور وہ آزاد ہو کر غار سے باہر نکل آئے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6949]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2743 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِي ، وَرَقَبَةُ بْنُ مَسْقَلَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي , وَرَقَبَةُ بْنُ مَسْقَلَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي ضَمْرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَزَادُوا فِي حَدِيثِهِمْ، وَخَرَجُوا يَمْشُونَ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: يَتَمَاشَوْنَ إِلَّا عُبَيْدَ اللَّهِ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ: وَخَرَجُوا وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْدَهَا شَيْئًا،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن عقبہ، عبیداللہ، فضیل، رقبہ بن مسقلہ اور صالح بن کیسان سب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ابوضمرہ کی موسیٰ بن عقبہ سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی روایت کی اور انہوں نے ان کی حدیث میں (پیدل چلے جا رہے تھے کے ساتھ) اور وہ پیدل چلتے ہوئے نکلے کے الفاظ بڑھائے اور عبیداللہ کی روایت کو چھوڑ کر صالح کی حدیث میں وہ مل کر پیدل چلے کے الفاظ ہیں جبکہ ان (عبیداللہ) کی حدیث میں اور وہ نکلے کا لفظ ہے اور انہوں نے اس کے بعد (پیدل چلتے ہوئے وغیرہ) کا کچھ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6950]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6950 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِي ، وَرَقَبَةُ بْنُ مَسْقَلَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي , وَرَقَبَةُ بْنُ مَسْقَلَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي ضَمْرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَزَادُوا فِي حَدِيثِهِمْ، وَخَرَجُوا يَمْشُونَ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: يَتَمَاشَوْنَ إِلَّا عُبَيْدَ اللَّهِ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ: وَخَرَجُوا وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْدَهَا شَيْئًا،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن عقبہ، عبیداللہ، فضیل، رقبہ بن مسقلہ اور صالح بن کیسان سب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ابوضمرہ کی موسیٰ بن عقبہ سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی روایت کی اور انہوں نے ان کی حدیث میں (پیدل چلے جا رہے تھے کے ساتھ) اور وہ پیدل چلتے ہوئے نکلے کے الفاظ بڑھائے اور عبیداللہ کی روایت کو چھوڑ کر صالح کی حدیث میں وہ مل کر پیدل چلے کے الفاظ ہیں جبکہ ان (عبیداللہ) کی حدیث میں اور وہ نکلے کا لفظ ہے اور انہوں نے اس کے بعد (پیدل چلتے ہوئے وغیرہ) کا کچھ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6950]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2743 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى آوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَقَالَ: فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ، وَقَالَ: فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ، فَارْتَعَجَتْ، وَقَالَ: فَخَرَجُوا مِنْ الْغَارِ يَمْشُونَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن عبداللہ (بن عمر) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص (کسی غرض سے) روانہ ہوئے، حتیٰ کہ رات گزارنے کی ضرورت انہیں ایک غار کی پناہ گاہ میں لے آئی۔ پھر انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نافع کی روایت کے مطابق واقعہ بیان کیا مگر کہا: اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین تھے، میں رات کے وقت ان دونوں سے پہلے نہ گھر والوں کو دودھ پلاتا تھا، نہ مال کو (اپنی ملکیت کے غلاموں یا مویشیوں کے ان بچوں کو جن کی اپنی مائیں نہ تھیں) دودھ پلاتا تھا۔ اور (یہ بھی) کہا: (میری عم زاد) مجھ سے دور رہی یہاں تک کہ ایک قحط سالی کا شکار ہو گئی، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اسے (سو کے بجائے جو اس نے مانگے تھے) ایک سو بیس دینار دیے۔ اور (تیسرے شخص کے واقعے میں) اس نے کہا: میں نے اس کی اجرت کو (کاشتکاری اور تجارت کے ذریعے) خوب بار آور بنایا، یہاں تک کہ ایسا کرنے سے مال مویشی بہت بڑھ گئے اور پھیل گئے۔ اور آخر میں کہا: تو وہ چلتے ہوئے غار سے باہر آ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6951]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6951 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى آوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَقَالَ: فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ، وَقَالَ: فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ، فَارْتَعَجَتْ، وَقَالَ: فَخَرَجُوا مِنْ الْغَارِ يَمْشُونَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن عبداللہ (بن عمر) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص (کسی غرض سے) روانہ ہوئے، حتیٰ کہ رات گزارنے کی ضرورت انہیں ایک غار کی پناہ گاہ میں لے آئی۔ پھر انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نافع کی روایت کے مطابق واقعہ بیان کیا مگر کہا: اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین تھے، میں رات کے وقت ان دونوں سے پہلے نہ گھر والوں کو دودھ پلاتا تھا، نہ مال کو (اپنی ملکیت کے غلاموں یا مویشیوں کے ان بچوں کو جن کی اپنی مائیں نہ تھیں) دودھ پلاتا تھا۔ اور (یہ بھی) کہا: (میری عم زاد) مجھ سے دور رہی یہاں تک کہ ایک قحط سالی کا شکار ہو گئی، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اسے (سو کے بجائے جو اس نے مانگے تھے) ایک سو بیس دینار دیے۔ اور (تیسرے شخص کے واقعے میں) اس نے کہا: میں نے اس کی اجرت کو (کاشتکاری اور تجارت کے ذریعے) خوب بار آور بنایا، یہاں تک کہ ایسا کرنے سے مال مویشی بہت بڑھ گئے اور پھیل گئے۔ اور آخر میں کہا: تو وہ چلتے ہوئے غار سے باہر آ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6951]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة