بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سوتے وقت اور دن کے آغاز میں تسبیح کرنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار باب: سوتے وقت اور دن کے آغاز میں تسبیح کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 2726 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وابن أبي عمر ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وابن أبي عمر واللفظ لابن أبي عمر، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ، فَقَالَ: " مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد صبح سویرے ان کے ہاں سے باہر تشریف لے گئے، اس وقت وہ اپنی نماز پڑھنے والی جگہ میں تھیں، پھر دن چڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے تو وہ (اسی طرح) بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے فرمایا: تم اب تک اسی حالت میں بیٹھی ہوئی ہو جس پر میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے (ہاں سے جانے کے) بعد میں نے چار کلمے تین بار کہے ہیں، اگر ان کو ان کے ساتھ تولا جائے جو تم نے آج کے دن اب تک کہا ہے تو یہ ان سے وزن میں بڑھ جائیں: «سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ ورضا نفسہ وزنة عرشہ ومداد کلماتہ» پاکیزگی ہے اللہ کی اور اس کی تعریف کے ساتھ، جتنی اس کی مخلوق کی گنتی ہے اور جتنی اس کو پسند ہے اور جتنا اس کے عرش کا وزن اور جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6913]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6913 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وابن أبي عمر ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وابن أبي عمر واللفظ لابن أبي عمر، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ، فَقَالَ: " مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد صبح سویرے ان کے ہاں سے باہر تشریف لے گئے، اس وقت وہ اپنی نماز پڑھنے والی جگہ میں تھیں، پھر دن چڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے تو وہ (اسی طرح) بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے فرمایا: تم اب تک اسی حالت میں بیٹھی ہوئی ہو جس پر میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے (ہاں سے جانے کے) بعد میں نے چار کلمے تین بار کہے ہیں، اگر ان کو ان کے ساتھ تولا جائے جو تم نے آج کے دن اب تک کہا ہے تو یہ ان سے وزن میں بڑھ جائیں: «سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ ورضا نفسہ وزنة عرشہ ومداد کلماتہ» پاکیزگی ہے اللہ کی اور اس کی تعریف کے ساتھ، جتنی اس کی مخلوق کی گنتی ہے اور جتنی اس کو پسند ہے اور جتنا اس کے عرش کا وزن اور جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6913]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2726 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ ، مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، مِسْعَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي رِشْدِينَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَتْ: مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابورشدین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گزرتے ہوئے ان کے ہاں تشریف لائے۔۔ پھر اس (پچھلی حدیث) کے مطابق بیان کیا۔۔ مگر انہوں نے (اپنے کلموں کو اس طرح) بیان کیا: «سبحان اللہ عدد خلقہ، سبحان اللہ رضا نفسہ، سبحان اللہ زنة عرشہ، سبحان اللہ مداد کلماتہ» میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی مخلوقات کی گنتی ہے، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی رضا ہے، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنا اس کے عرش کا وزن ہے، میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6914]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6914 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ ، مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، مِسْعَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي رِشْدِينَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَتْ: مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابورشدین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گزرتے ہوئے ان کے ہاں تشریف لائے۔۔ پھر اس (پچھلی حدیث) کے مطابق بیان کیا۔۔ مگر انہوں نے (اپنے کلموں کو اس طرح) بیان کیا: «سبحان اللہ عدد خلقہ، سبحان اللہ رضا نفسہ، سبحان اللہ زنة عرشہ، سبحان اللہ مداد کلماتہ» میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی مخلوقات کی گنتی ہے، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی رضا ہے، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنا اس کے عرش کا وزن ہے، میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6914]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2727 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِي يَدِهَا، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى مَكَانِكُمَا، فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے جو زحمت برداشت کرنی پڑی اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں تکلیف ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے۔ آپ کی طرف گئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (گھر میں) نہ پایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں اور انہیں (اپنی تکلیف کے بارے میں) بتایا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو ان (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے اپنے پاس آنے کے بارے میں بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔۔ اس وقت ہم اپنے اپنے بستروں میں جا چکے تھے، ہم کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دونوں اپنی اپنی جگہ پر رہو۔ آپ ہم دونوں کے درمیان (والی جگہ پر) بیٹھ گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے قدم مبارک کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں نے جو مجھ سے مانگا ہے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ سکھاؤں؟ جب تم دونوں اپنے اپنے بستروں میں جاؤ تو چونتیس بار «اللہ اکبر» کہو، تینتیس بار «سبحان اللہ» کہو اور تینتیس بار «الحمد للہ» کہو، یہ (عمل) تم دونوں کے لیے ایک خادم (مل جانے) سے بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6915]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6915 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِي يَدِهَا، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى مَكَانِكُمَا، فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے جو زحمت برداشت کرنی پڑی اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں تکلیف ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے۔ آپ کی طرف گئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (گھر میں) نہ پایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں اور انہیں (اپنی تکلیف کے بارے میں) بتایا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو ان (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے اپنے پاس آنے کے بارے میں بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔۔ اس وقت ہم اپنے اپنے بستروں میں جا چکے تھے، ہم کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دونوں اپنی اپنی جگہ پر رہو۔ آپ ہم دونوں کے درمیان (والی جگہ پر) بیٹھ گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے قدم مبارک کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں نے جو مجھ سے مانگا ہے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ سکھاؤں؟ جب تم دونوں اپنے اپنے بستروں میں جاؤ تو چونتیس بار «اللہ اکبر» کہو، تینتیس بار «سبحان اللہ» کہو اور تینتیس بار «الحمد للہ» کہو، یہ (عمل) تم دونوں کے لیے ایک خادم (مل جانے) سے بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6915]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2727 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع، معاذ اور ابن ابی عدی سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور معاذ کی حدیث میں ہے: جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستر میں چلے جاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6916]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6916 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع، معاذ اور ابن ابی عدی سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور معاذ کی حدیث میں ہے: جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستر میں چلے جاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6916]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2727 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ عَلِيٌّ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن ابی یزید اور عطاء بن ابی رباح نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے حدیث میں مزید یہ بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات سنی میں نے کبھی اسے ترک نہیں کیا۔ ان سے پوچھا: کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا؟ انہوں نے جواب دیا: جنگ صفین کی رات بھی (اسے نہیں چھوڑا۔) عطاء نے جو حدیث مجاہد سے اور انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی، انہوں (ابن ابی لیلیٰ) نے کہا: میں نے ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے عرض کی: صفین کی رات بھی نہ چھوڑا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6917]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6917 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ عَلِيٌّ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن ابی یزید اور عطاء بن ابی رباح نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے حدیث میں مزید یہ بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات سنی میں نے کبھی اسے ترک نہیں کیا۔ ان سے پوچھا: کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا؟ انہوں نے جواب دیا: جنگ صفین کی رات بھی (اسے نہیں چھوڑا۔) عطاء نے جو حدیث مجاہد سے اور انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی، انہوں (ابن ابی لیلیٰ) نے کہا: میں نے ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے عرض کی: صفین کی رات بھی نہ چھوڑا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6917]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2728 صحیح مسلم
أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَكَتِ الْعَمَلَ، فَقَالَ: مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا، قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَكِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح بن قاسم نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خدمت گزار (کنیز) مانگنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کام کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: تمہیں خدمت گزار تو ہمارے ہاں نہیں ملا۔ (ہمارے گھر میں بھی موجود نہیں)، فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خدمت گزار سے بہت بہتر ہے؟ جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس بار «سبحان اللہ» کہو، تینتیس بار «الحمد للہ» کہو اور چونتیس بار «اللہ اکبر» کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6918]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6918 صحیح مسلم
أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَكَتِ الْعَمَلَ، فَقَالَ: مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا، قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَكِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح بن قاسم نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خدمت گزار (کنیز) مانگنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کام کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: تمہیں خدمت گزار تو ہمارے ہاں نہیں ملا۔ (ہمارے گھر میں بھی موجود نہیں)، فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خدمت گزار سے بہت بہتر ہے؟ جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس بار «سبحان اللہ» کہو، تینتیس بار «الحمد للہ» کہو اور چونتیس بار «اللہ اکبر» کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6918]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2728 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہیب نے کہا: ہمیں سہیل نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6919]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6919 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہیب نے کہا: ہمیں سہیل نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6919]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة