بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ذکر الہٰی جس مجلس میں ہو اس کی فضلیت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار باب: ذکر الہٰی جس مجلس میں ہو اس کی فضلیت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2689 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، بَهْزٌ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَتَتَبَّعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ، وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ، وَيُكَبِّرُونَكَ، وَيُهَلِّلُونَكَ، وَيَحْمَدُونَكَ، وَيَسْأَلُونَكَ، قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُونِي؟ قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: لَا أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: وَيَسْتَجِيرُونَكَ، قَالَ: وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي؟ قَالُوا: مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ، قَالَ وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: وَيَسْتَغْفِرُونَكَ، قَالَ، فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا، قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَيَقُولُ: وَلَهُ غَفَرْتُ هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو (اللہ کی زمین میں) چکر لگاتے رہتے ہیں، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں (اللہ کا) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور دنیا کے آسمان کے درمیان (کی وسعت کو) بھر دیتے ہیں۔ جب (مجلس میں شریک ہونے والے) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ (فرشتے) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں، کہا: تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں (رہنے والے) تیرے بندوں کی طرف سے (ہو کر) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے، تیری بڑائی کہہ رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھ سے مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے۔ فرمایا: کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا: پروردگار! (انہوں نے) نہیں (دیکھی)، فرمایا: اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا! (کس الحاح و زاری سے مانگتے!) وہ کہتے ہیں: اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: تیری آگ (جہنم) سے، اے رب! فرمایا: کیا انہوں نے میری آگ (جہنم) دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا: اے رب! نہیں (دیکھی)، فرمایا: اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو (ان کا کیا حال ہوتا!) وہ کہتے ہیں: وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے، تو وہ فرماتا ہے: میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انہوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: وہ (فرشتے) کہتے ہیں: پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا، سخت گناہ گار بندہ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: تو اللہ ارشاد فرماتا ہے: میں نے اس کو بھی بخش دیا۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6839]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6839 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، بَهْزٌ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَتَتَبَّعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ، وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ، وَيُكَبِّرُونَكَ، وَيُهَلِّلُونَكَ، وَيَحْمَدُونَكَ، وَيَسْأَلُونَكَ، قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُونِي؟ قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: لَا أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: وَيَسْتَجِيرُونَكَ، قَالَ: وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي؟ قَالُوا: مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ، قَالَ وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: وَيَسْتَغْفِرُونَكَ، قَالَ، فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا، قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَيَقُولُ: وَلَهُ غَفَرْتُ هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو (اللہ کی زمین میں) چکر لگاتے رہتے ہیں، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں (اللہ کا) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور دنیا کے آسمان کے درمیان (کی وسعت کو) بھر دیتے ہیں۔ جب (مجلس میں شریک ہونے والے) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ (فرشتے) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں، کہا: تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں (رہنے والے) تیرے بندوں کی طرف سے (ہو کر) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے، تیری بڑائی کہہ رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھ سے مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے۔ فرمایا: کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا: پروردگار! (انہوں نے) نہیں (دیکھی)، فرمایا: اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا! (کس الحاح و زاری سے مانگتے!) وہ کہتے ہیں: اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: تیری آگ (جہنم) سے، اے رب! فرمایا: کیا انہوں نے میری آگ (جہنم) دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا: اے رب! نہیں (دیکھی)، فرمایا: اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو (ان کا کیا حال ہوتا!) وہ کہتے ہیں: وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے، تو وہ فرماتا ہے: میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انہوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: وہ (فرشتے) کہتے ہیں: پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا، سخت گناہ گار بندہ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: تو اللہ ارشاد فرماتا ہے: میں نے اس کو بھی بخش دیا۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6839]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة