بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم تقدیر کا بیان باب: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 2652 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وأحمد بن عبدة الضبي ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وأحمد بن عبدة الضبي جميعا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ، وَابْنِ دِينَارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَابْنِ عَبْدَةَ، قَالَ أَحَدُهُمَا: خَطَّ، وقَالَ الْآخَرُ: كَتَبَ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حاتم، ابراہیم بن دینار، ابن ابی عمر مکی اور احمد بن عبدہ ضبی نے ہمیں ابن عیینہ سے حدیث بیان کی، الفاظ ابن حاتم اور ابن دینار کے ہیں۔ ان دونوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عمرو (بن دینار) سے حدیث بیان کی، انہوں نے طاوس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے (ایک دوسرے کو) اپنی اپنی دلیلیں دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آدم! آپ ہمارے والد ہیں، آپ نے ہمیں ناکام کر دیا اور ہمیں جنت سے باہر نکال لائے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: تم موسیٰ ہو، تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کے لیے منتخب فرمایا اور اپنے ہاتھ سے تمہارے لیے (اپنے احکام کو) لکھا، کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں مجھے پیدا کرنے سے بھی چالیس سال پہلے مقدر کر دیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو حضرت آدم علیہ السلام (دلیل میں) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ ابن ابی عمر اور ابن عبدہ کی حدیث میں ہے کہ ایک نے کہا: لکھا اور دوسرے نے کہا: تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6742]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6742 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وأحمد بن عبدة الضبي ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وأحمد بن عبدة الضبي جميعا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ، وَابْنِ دِينَارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَابْنِ عَبْدَةَ، قَالَ أَحَدُهُمَا: خَطَّ، وقَالَ الْآخَرُ: كَتَبَ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حاتم، ابراہیم بن دینار، ابن ابی عمر مکی اور احمد بن عبدہ ضبی نے ہمیں ابن عیینہ سے حدیث بیان کی، الفاظ ابن حاتم اور ابن دینار کے ہیں۔ ان دونوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عمرو (بن دینار) سے حدیث بیان کی، انہوں نے طاوس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے (ایک دوسرے کو) اپنی اپنی دلیلیں دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آدم! آپ ہمارے والد ہیں، آپ نے ہمیں ناکام کر دیا اور ہمیں جنت سے باہر نکال لائے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: تم موسیٰ ہو، تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کے لیے منتخب فرمایا اور اپنے ہاتھ سے تمہارے لیے (اپنے احکام کو) لکھا، کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں مجھے پیدا کرنے سے بھی چالیس سال پہلے مقدر کر دیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو حضرت آدم علیہ السلام (دلیل میں) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ ابن ابی عمر اور ابن عبدہ کی حدیث میں ہے کہ ایک نے کہا: لکھا اور دوسرے نے کہا: تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6742]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2652 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَحَاجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزناد نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے ایک دوسرے کو دلائل دیے اور آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل دے ہرا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ وہی آدم ہیں جنہوں نے (خود غلطی کر کے اپنی اولاد کے) لوگوں کو غلطیاں کرنے کا راستہ دکھایا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم علیہ السلام نے فرمایا: تمہی ہو جسے اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور جسے لوگوں میں سے اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا؟ انہوں نے کہا: ہاں، (تو آدم علیہ السلام نے) فرمایا: تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو مجھے پیدا کیے جانے سے بھی پہلے میرے مقدر کر دی گئی تھی؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6743]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6743 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَحَاجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزناد نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے ایک دوسرے کو دلائل دیے اور آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل دے ہرا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ وہی آدم ہیں جنہوں نے (خود غلطی کر کے اپنی اولاد کے) لوگوں کو غلطیاں کرنے کا راستہ دکھایا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم علیہ السلام نے فرمایا: تمہی ہو جسے اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور جسے لوگوں میں سے اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا؟ انہوں نے کہا: ہاں، (تو آدم علیہ السلام نے) فرمایا: تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو مجھے پیدا کیے جانے سے بھی پہلے میرے مقدر کر دی گئی تھی؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6743]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2652 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، قَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ، ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ، وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا، فَبِكَمْ وَجَدْتَ اللَّهَ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ مُوسَى: بِأَرْبَعِينَ عَامًا، قَالَ آدَمُ: فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا: وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى سورة طه آية 121، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حارث بن ابی ذباب نے یزید بن ہرمز اور عبدالرحمان اعرج سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے کو دلیلیں دیں اور حضرت آدم علیہ السلام دلیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، حضرت موسیٰ نے کہا: آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور آپ میں اپنی روح کو پھونکا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا، پھر آپ نے اپنی غلطی سے لوگوں کو جنت سے نکلوا کر زمین میں اتروا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: تم وہ موسیٰ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے سے فضیلت بخشی اور تمہیں (تورات کی) وہ تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کی وضاحت ہے اور تمہیں سرگوشی کے لیے جانے والا بنا کر اپنا قرب عطا فرمایا۔ (تم یہ بتاؤ) تمہارے علم کے مطابق اللہ نے میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے تورات کو (اس صورت میں) لکھا (جس طرح وہ تم پر نازل ہوئی؟) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: چالیس سال سے (قبل۔) حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: کیا تم نے اس میں یہ (لکھا ہوا) پایا: آدم نے اپنے پروردگار (کے حکم) سے سرتابی کی اور راہ سے ہٹ گیا؟ (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو کہ میں نے وہ کام کیا جو اللہ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے مجھ پر لکھ دیا تھا کہ میں وہ کام کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح آدم علیہ السلام نے دلیل سے موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6744]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6744 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، قَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ، ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ، وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا، فَبِكَمْ وَجَدْتَ اللَّهَ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ مُوسَى: بِأَرْبَعِينَ عَامًا، قَالَ آدَمُ: فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا: وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى سورة طه آية 121، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حارث بن ابی ذباب نے یزید بن ہرمز اور عبدالرحمان اعرج سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے کو دلیلیں دیں اور حضرت آدم علیہ السلام دلیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، حضرت موسیٰ نے کہا: آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور آپ میں اپنی روح کو پھونکا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا، پھر آپ نے اپنی غلطی سے لوگوں کو جنت سے نکلوا کر زمین میں اتروا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: تم وہ موسیٰ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے سے فضیلت بخشی اور تمہیں (تورات کی) وہ تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کی وضاحت ہے اور تمہیں سرگوشی کے لیے جانے والا بنا کر اپنا قرب عطا فرمایا۔ (تم یہ بتاؤ) تمہارے علم کے مطابق اللہ نے میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے تورات کو (اس صورت میں) لکھا (جس طرح وہ تم پر نازل ہوئی؟) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: چالیس سال سے (قبل۔) حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: کیا تم نے اس میں یہ (لکھا ہوا) پایا: آدم نے اپنے پروردگار (کے حکم) سے سرتابی کی اور راہ سے ہٹ گیا؟ (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو کہ میں نے وہ کام کیا جو اللہ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے مجھ پر لکھ دیا تھا کہ میں وہ کام کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح آدم علیہ السلام نے دلیل سے موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6744]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2652 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ حَاتِمٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے دلائل کا تبادلہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ آدم ہیں جن کی خطا نے انہیں جنت سے باہر نکالا؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: کیا تم موسیٰ ہو جسے اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی سے دوسروں پر فضیلت دی، پھر تم مجھے اس معاملے میں ملامت کر رہے ہو جو میری پیدائش سے پہلے میرے لیے مقدر کر دیا گیا تھا؟ اس طرح آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل سے خاموش کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6745]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6745 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ حَاتِمٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے دلائل کا تبادلہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ آدم ہیں جن کی خطا نے انہیں جنت سے باہر نکالا؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: کیا تم موسیٰ ہو جسے اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی سے دوسروں پر فضیلت دی، پھر تم مجھے اس معاملے میں ملامت کر رہے ہو جو میری پیدائش سے پہلے میرے لیے مقدر کر دیا گیا تھا؟ اس طرح آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل سے خاموش کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6745]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2652 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ ، يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، ابْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ اور ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان (گزشتہ راویوں) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6746]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6746 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ ، يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، ابْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ اور ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان (گزشتہ راویوں) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6746]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2652 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6747]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6747 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6747]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2653 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْحٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوہانی خولانی نے ابوعبدالرحمان حبلی سے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں تحریر فرما دی تھیں۔ فرمایا: اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6748]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6748 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْحٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوہانی خولانی نے ابوعبدالرحمان حبلی سے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں تحریر فرما دی تھیں۔ فرمایا: اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6748]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2653 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، أَبِي هَانِئٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حیوہ اور نافع بن یزید نے ابوہانی سے اسی سند کے ساتھ اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی مگر ان دونوں نے یہ نہیں کہا: اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6749]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6749 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، أَبِي هَانِئٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حیوہ اور نافع بن یزید نے ابوہانی سے اسی سند کے ساتھ اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی مگر ان دونوں نے یہ نہیں کہا: اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6749]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة