أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، غُنْدَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا جَمْرَةَ ، زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ "، قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِي، أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوجمرہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے زہدم بن مضرب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے اچھے میرے دور کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں۔“ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو بار فرمایا یا تین بار؟ (پھر آپ نے فرمایا:) ”پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی مطلوب نہیں ہو گی اور خیانت کریں گے جبکہ ان کو امانت دار نہیں بنایا جائے گا (جس مال کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں ہو گی اس میں بھی خیانت کے راستے نکالیں گے)، وہ نذر مانیں گے لیکن اپنی نذریں پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6475]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة