بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 2475 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، بَيَانٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، خَالِدٌ ، بَيانٍ ، قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيانٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : " أَحْجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور عبدالحمید بن بیان واسطی نے خالد بن عبداللہ سے، انہوں نے بیان سے روایت کی، کہا: میں نے قیس بن ابی حازم کو یہ کہتے ہوئے سنا، حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب سے اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی اپنے حجرے سے باہر نہیں روکا اور آپ نے جب بھی مجھے دیکھا آپ ہنس دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6363]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6363 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، بَيَانٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، خَالِدٌ ، بَيانٍ ، قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيانٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : " أَحْجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور عبدالحمید بن بیان واسطی نے خالد بن عبداللہ سے، انہوں نے بیان سے روایت کی، کہا: میں نے قیس بن ابی حازم کو یہ کہتے ہوئے سنا، حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب سے اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی اپنے حجرے سے باہر نہیں روکا اور آپ نے جب بھی مجھے دیکھا آپ ہنس دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6363]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2475 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، إِسْمَاعِيلَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، جَرِيرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي "، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ، أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع اور ابواسامہ نے اسماعیل سے حدیث بیان کی، نیز ابن نمیر نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اسماعیل نے قیس سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی گھر سے باہر نہیں روکا اور آپ نے کبھی مجھے نہیں دیکھا مگر آپ ہمیشہ میرے سامنے مسکرائے ہیں۔ ابن نمیر نے ابن ادریس سے اپنی روایت میں مزید یہ کہا: میں نے آپ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: اے اللہ! اسے ثبات (مضبوطی) عطا کر اور اسے ہدایت پہنچانے والا ہدایت پانے والا بنا دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6364]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6364 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، إِسْمَاعِيلَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، جَرِيرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي "، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ، أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع اور ابواسامہ نے اسماعیل سے حدیث بیان کی، نیز ابن نمیر نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اسماعیل نے قیس سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی گھر سے باہر نہیں روکا اور آپ نے کبھی مجھے نہیں دیکھا مگر آپ ہمیشہ میرے سامنے مسکرائے ہیں۔ ابن نمیر نے ابن ادریس سے اپنی روایت میں مزید یہ کہا: میں نے آپ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: اے اللہ! اسے ثبات (مضبوطی) عطا کر اور اسے ہدایت پہنچانے والا ہدایت پانے والا بنا دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6364]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2476 صحیح مسلم
عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، خَالِدٌ ، بَيَانٍ ، قَيْسٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ، يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ، وَالْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ، وَالْكَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ، وَالشَّامِيَّةِ؟ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَكَسَرْنَاهُ، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالحمید بن بیان نے کہا: ہمیں خالد بن عبداللہ نے بیان سے خبر دی، انہوں نے قیس سے، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گاہ تھی جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی اذیت سے راحت دلاؤ گے؟ تو میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو جوانوں کے ساتھ اس کی طرف گیا۔ ہم نے اس بت خانے کو توڑ دیا اور جن لوگوں کو وہاں پایا ان سب کو قتل کر دیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر سنائی تو آپ نے ہمارے لیے اور (پورے) قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6365]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6365 صحیح مسلم
عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، خَالِدٌ ، بَيَانٍ ، قَيْسٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ، يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ، وَالْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ، وَالْكَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ، وَالشَّامِيَّةِ؟ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَكَسَرْنَاهُ، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالحمید بن بیان نے کہا: ہمیں خالد بن عبداللہ نے بیان سے خبر دی، انہوں نے قیس سے، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گاہ تھی جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی اذیت سے راحت دلاؤ گے؟ تو میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو جوانوں کے ساتھ اس کی طرف گیا۔ ہم نے اس بت خانے کو توڑ دیا اور جن لوگوں کو وہاں پایا ان سب کو قتل کر دیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر سنائی تو آپ نے ہمارے لیے اور (پورے) قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6365]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2476 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَرِيرُ: أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ بَيْتٍ لِخَثْعَمَ؟ كَانَ يُدْعَى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ، قَالَ: فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُبَشِّرُهُ، يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْنَاهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا، خَمْسَ مَرَّاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جریر! کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے راحت نہیں دلاؤ گے؟ یہ خثعم کا بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانیہ بھی کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں ڈیڑھ سو گھڑسوار لے کر اس کی طرف روانہ ہوا اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے میرے سینے پر اپنا مبارک ہاتھ مارا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو (گھوڑے پر) جما دے اور اسے ہدایت پہنچانے والا ہدایت پانے والا بنا دے۔ (قیس بن ابی حازم نے) کہا: پھر وہ روانہ ہوئے اور اس بت خانے کو آگ لگا کر جلا دیا، پھر حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا۔ اس کی کنیت ابوارطاۃ تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی، میں آپ کے پاس اسی وقت حاضر ہوا ہوں جب ہم نے اس (بت خانے) کو خارش زدہ اونٹ کی طرح (دیکھنے میں مکروہ ٹوٹا پھوٹا) کر چھوڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیادوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6366]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6366 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَرِيرُ: أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ بَيْتٍ لِخَثْعَمَ؟ كَانَ يُدْعَى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ، قَالَ: فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُبَشِّرُهُ، يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْنَاهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا، خَمْسَ مَرَّاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جریر! کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے راحت نہیں دلاؤ گے؟ یہ خثعم کا بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانیہ بھی کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں ڈیڑھ سو گھڑسوار لے کر اس کی طرف روانہ ہوا اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے میرے سینے پر اپنا مبارک ہاتھ مارا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو (گھوڑے پر) جما دے اور اسے ہدایت پہنچانے والا ہدایت پانے والا بنا دے۔ (قیس بن ابی حازم نے) کہا: پھر وہ روانہ ہوئے اور اس بت خانے کو آگ لگا کر جلا دیا، پھر حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا۔ اس کی کنیت ابوارطاۃ تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی، میں آپ کے پاس اسی وقت حاضر ہوا ہوں جب ہم نے اس (بت خانے) کو خارش زدہ اونٹ کی طرح (دیکھنے میں مکروہ ٹوٹا پھوٹا) کر چھوڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیادوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6366]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2476 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، إِسْمَاعِيلَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَرْوَانَ: فَجَاءَ بَشِيرُ جَرِيرٍ أَبُو أَرْطَاةَ حُصَيْنُ بْنُ رَبِيعَةَ يُبَشِّرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع، عبداللہ بن نمیر، سفیان، مروان فرازی اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور مروان کی حدیث میں کہا: تو حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خوشخبری دینے والے ابوارطاۃ حصین بن ربیعہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6367]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6367 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، إِسْمَاعِيلَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَرْوَانَ: فَجَاءَ بَشِيرُ جَرِيرٍ أَبُو أَرْطَاةَ حُصَيْنُ بْنُ رَبِيعَةَ يُبَشِّرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع، عبداللہ بن نمیر، سفیان، مروان فرازی اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور مروان کی حدیث میں کہا: تو حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خوشخبری دینے والے ابوارطاۃ حصین بن ربیعہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6367]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة