بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل باب: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 2369 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، الْمُخْتَارِ ، عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ . ح وحَدَّثَنِي وَاللَّفْظُ لَهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: «يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ» اے مخلوقات میں سے بہترین انسان! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ (یعنی یہ ان کا لقب ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6138 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، الْمُخْتَارِ ، عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ . ح وحَدَّثَنِي وَاللَّفْظُ لَهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: «يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ» اے مخلوقات میں سے بہترین انسان! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ (یعنی یہ ان کا لقب ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2369 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ ، أَنَسًا
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ادریس نے کہا: میں نے عمرو بن حریث کے آزاد کردہ غلام مختار بن فلفل سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اسی (پچھلی حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6139]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6139 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ ، أَنَسًا
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ادریس نے کہا: میں نے عمرو بن حریث کے آزاد کردہ غلام مختار بن فلفل سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اسی (پچھلی حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6139]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2369 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْمُخْتَارِ ، أَنَسًا
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْمُخْتَارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے مختار سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا، اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6140]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6140 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْمُخْتَارِ ، أَنَسًا
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْمُخْتَارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے مختار سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا، اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6140]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2370 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں قدوم (مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے) سے ختنہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6141]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6141 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں قدوم (مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے) سے ختنہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6141]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 151 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ، طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھے جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى» ’اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔‘ اللہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو یقین نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں! مگر صرف اس لیے (دیکھنا چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جائے۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے! وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں بلانے والے کی بات مان لیتا (بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آ جاتا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6142]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6142 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ، طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھے جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى» ’اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔‘ اللہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو یقین نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں! مگر صرف اس لیے (دیکھنا چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جائے۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے! وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں بلانے والے کی بات مان لیتا (بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آ جاتا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6142]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 151 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، جُوَيْرِيَةُ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَاه إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبید نے انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یونس کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6143]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6143 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، جُوَيْرِيَةُ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَاه إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبید نے انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یونس کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6143]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 151 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، شَبَابَةُ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6144]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6144 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، شَبَابَةُ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6144]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2371 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام قَطُّ، إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ، ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ، قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ، فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ، وَمَعَهُ سَارَةُ، وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي، يَغْلِبْنِي عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ، فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ، رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ أَتَاهُ، فَقَالَ لَهُ: لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَكَ امْرَأَةٌ، لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلَّا لَكَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا، فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْه السَّلَام إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ لَهَا: ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، وَلَا أَضُرُّكِ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الْأُولَى، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، فَلَكِ اللَّهَ أَنْ لَا أَضُرَّكِ، فَفَعَلَتْ، وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ: إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي، وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهَا: مَهْيَمْ؟ قَالَتْ: خَيْرًا، كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَ خَادِمًا "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تین دفعہ (بولا) (یہ اصطلاحاً جھوٹ کہے گئے ہیں، حقیقت میں جھوٹ نہیں ہیں بلکہ یہ توریہ کی ایک شکل ہیں) ان میں سے دو جھوٹ اللہ کے لیے تھے، ایک تو ان کا یہ قول کہ «إِنِّي سَقِيمٌ» ’میں بیمار ہوں‘ اور دوسرا یہ کہ «بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا» ’ان بتوں کو بڑے بت نے توڑا ہو گا‘ تیسرا جھوٹ سیدہ سارہ علیہا السلام کے بارے میں تھا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے ان کے ساتھ ان کی بیوی سیدہ سارہ بھی تھیں اور وہ بڑی خوبصورت تھیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس ظالم بادشاہ کو اگر معلوم ہو گا کہ تو میری بیوی ہے تو مجھ سے چھین لے گا، اس لیے اگر وہ پوچھے تو یہ کہنا کہ میں اس شخص کی بہن ہوں اور تو اسلام کے رشتے سے میری بہن ہے۔ (یہ بھی کچھ جھوٹ نہ تھا) اس لیے کہ ساری دنیا میں آج میرے اور تیرے سوا کوئی مسلمان معلوم نہیں ہوتا۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کی قلمرو (اس کے علاقے) سے گزر رہے تھے تو اس ظالم بادشاہ کے کارندے اس کے پاس گئے اور بیان کیا کہ تیرے ملک میں ایک ایسی عورت آئی ہے جو تیرے سوا کسی کے لائق نہیں ہے۔ اس نے سیدہ سارہ کو بلا بھیجا۔ وہ گئیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نماز کے لیے کھڑے ہو گئے (اللہ سے دعا کرنے لگے اس کے شر سے بچنے کے لیے) جب سیدہ سارہ اس ظالم کے پاس پہنچیں تو اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ ان کی طرف دراز کیا، لیکن فوراً اس کا ہاتھ سوکھ گیا۔ وہ بولا کہ تو اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے، میں تجھے نہیں ستاؤں گا۔ انہوں نے دعا کی۔ اس مردود نے پھر ہاتھ دراز کیا، پھر پہلے سے بڑھ کر سوکھ گیا۔ اس نے دعا کے لیے کہا تو انہوں نے دعا کی۔ پھر اس مردود نے دست درازی کی، پھر پہلی دونوں دفعہ سے بڑھ کر سوکھ گیا۔ تب وہ بولا کہ اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے، اللہ کی قسم اب میں تجھ کو نہ ستاؤں گا۔ سیدہ سارہ نے پھر دعا کی، اس کا ہاتھ کھل گیا۔ تب اس نے اس شخص کو بلایا جو سیدہ سارہ کو لے کر آیا تھا اور اس سے بولا کہ تو میرے پاس شیطاننی کو لے کر آیا، یہ انسان نہیں ہے۔ اس کو میرے ملک سے باہر نکال دے اور ایک لونڈی ہاجرہ اس کے حوالے کر دے۔ سیدہ سارہ ہاجرہ کو لے کر لوٹ آئیں۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا تو نمازوں سے فارغ ہوئے اور کہا کیا ہوا؟ سارہ نے کہا بس کہ سب خیریت رہی، اللہ تعالیٰ نے اس بدکار کا ہاتھ مجھ سے روک دیا اور ایک لونڈی بھی دی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر یہی لونڈی یعنی ہاجرہ تمہاری ماں ہے اے بارش کے بچو! [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6145]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6145 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام قَطُّ، إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ، ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ، قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ، فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ، وَمَعَهُ سَارَةُ، وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي، يَغْلِبْنِي عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ، فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ، رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ أَتَاهُ، فَقَالَ لَهُ: لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَكَ امْرَأَةٌ، لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلَّا لَكَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا، فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْه السَّلَام إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ لَهَا: ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، وَلَا أَضُرُّكِ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الْأُولَى، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، فَلَكِ اللَّهَ أَنْ لَا أَضُرَّكِ، فَفَعَلَتْ، وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ: إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي، وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهَا: مَهْيَمْ؟ قَالَتْ: خَيْرًا، كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَ خَادِمًا "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تین دفعہ (بولا) (یہ اصطلاحاً جھوٹ کہے گئے ہیں، حقیقت میں جھوٹ نہیں ہیں بلکہ یہ توریہ کی ایک شکل ہیں) ان میں سے دو جھوٹ اللہ کے لیے تھے، ایک تو ان کا یہ قول کہ «إِنِّي سَقِيمٌ» ’میں بیمار ہوں‘ اور دوسرا یہ کہ «بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا» ’ان بتوں کو بڑے بت نے توڑا ہو گا‘ تیسرا جھوٹ سیدہ سارہ علیہا السلام کے بارے میں تھا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے ان کے ساتھ ان کی بیوی سیدہ سارہ بھی تھیں اور وہ بڑی خوبصورت تھیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس ظالم بادشاہ کو اگر معلوم ہو گا کہ تو میری بیوی ہے تو مجھ سے چھین لے گا، اس لیے اگر وہ پوچھے تو یہ کہنا کہ میں اس شخص کی بہن ہوں اور تو اسلام کے رشتے سے میری بہن ہے۔ (یہ بھی کچھ جھوٹ نہ تھا) اس لیے کہ ساری دنیا میں آج میرے اور تیرے سوا کوئی مسلمان معلوم نہیں ہوتا۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کی قلمرو (اس کے علاقے) سے گزر رہے تھے تو اس ظالم بادشاہ کے کارندے اس کے پاس گئے اور بیان کیا کہ تیرے ملک میں ایک ایسی عورت آئی ہے جو تیرے سوا کسی کے لائق نہیں ہے۔ اس نے سیدہ سارہ کو بلا بھیجا۔ وہ گئیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نماز کے لیے کھڑے ہو گئے (اللہ سے دعا کرنے لگے اس کے شر سے بچنے کے لیے) جب سیدہ سارہ اس ظالم کے پاس پہنچیں تو اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ ان کی طرف دراز کیا، لیکن فوراً اس کا ہاتھ سوکھ گیا۔ وہ بولا کہ تو اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے، میں تجھے نہیں ستاؤں گا۔ انہوں نے دعا کی۔ اس مردود نے پھر ہاتھ دراز کیا، پھر پہلے سے بڑھ کر سوکھ گیا۔ اس نے دعا کے لیے کہا تو انہوں نے دعا کی۔ پھر اس مردود نے دست درازی کی، پھر پہلی دونوں دفعہ سے بڑھ کر سوکھ گیا۔ تب وہ بولا کہ اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے، اللہ کی قسم اب میں تجھ کو نہ ستاؤں گا۔ سیدہ سارہ نے پھر دعا کی، اس کا ہاتھ کھل گیا۔ تب اس نے اس شخص کو بلایا جو سیدہ سارہ کو لے کر آیا تھا اور اس سے بولا کہ تو میرے پاس شیطاننی کو لے کر آیا، یہ انسان نہیں ہے۔ اس کو میرے ملک سے باہر نکال دے اور ایک لونڈی ہاجرہ اس کے حوالے کر دے۔ سیدہ سارہ ہاجرہ کو لے کر لوٹ آئیں۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا تو نمازوں سے فارغ ہوئے اور کہا کیا ہوا؟ سارہ نے کہا بس کہ سب خیریت رہی، اللہ تعالیٰ نے اس بدکار کا ہاتھ مجھ سے روک دیا اور ایک لونڈی بھی دی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر یہی لونڈی یعنی ہاجرہ تمہاری ماں ہے اے بارش کے بچو! [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6145]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة