بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1337 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قَالَا: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی، ان دونوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "میں جس کام سے تمہیں روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کام کا حکم دوں، اپنی استطاعت کے مطابق اس کو کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے اختلاف نے ہلاک کر دیا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6113]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6113 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قَالَا: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی، ان دونوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "میں جس کام سے تمہیں روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کام کا حکم دوں، اپنی استطاعت کے مطابق اس کو کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے اختلاف نے ہلاک کر دیا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6113]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1337 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، أَبُو سَلَمَةَ وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، ابْنِ شِهَابٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ہاد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6114]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6114 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، أَبُو سَلَمَةَ وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، ابْنِ شِهَابٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ہاد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6114]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1337 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كُلُّهُمْ، قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: مَا تُرِكْتُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ ذَكَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوصالح، اعرج، محمد بن زیاد اور ہمام بن منبہ، سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے (آپ نے فرمایا): "جب تک میں تمہیں چھوڑ رکھوں (کوئی حکم نہ دوں) تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (خواہ مخواہ کے سوال مت کرو)" اور ہمام کی حدیث میں ہے: "جب تک تمہیں چھوڑ دیا جائے، کیونکہ وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے (کثرت سوال سے) ہلاک ہو گئے۔" پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ سے زہری کی حدیث کی طرح (آگے) بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6115]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6115 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كُلُّهُمْ، قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: مَا تُرِكْتُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ ذَكَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوصالح، اعرج، محمد بن زیاد اور ہمام بن منبہ، سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے (آپ نے فرمایا): "جب تک میں تمہیں چھوڑ رکھوں (کوئی حکم نہ دوں) تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (خواہ مخواہ کے سوال مت کرو)" اور ہمام کی حدیث میں ہے: "جب تک تمہیں چھوڑ دیا جائے، کیونکہ وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے (کثرت سوال سے) ہلاک ہو گئے۔" پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ سے زہری کی حدیث کی طرح (آگے) بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6115]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2358 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تو اس کے سوال کی بنا پر اسے حرام کر دیا جائے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6116]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6116 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تو اس کے سوال کی بنا پر اسے حرام کر دیا جائے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6116]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2358 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَحْفَظُهُ كَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ، مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یہ اسی طرح یاد ہے جس طرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یاد ہے۔ زہری نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں میں سے مسلمانوں کے بارے میں سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے، جس نے ایسے معاملے کے متعلق سوال کیا جو حرام نہیں کیا گیا تھا تو اس کے سوال کی بنا پر اس کو لوگوں کے لیے حرام کر دیا گیا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6117]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6117 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَحْفَظُهُ كَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ، مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یہ اسی طرح یاد ہے جس طرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یاد ہے۔ زہری نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں میں سے مسلمانوں کے بارے میں سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے، جس نے ایسے معاملے کے متعلق سوال کیا جو حرام نہیں کیا گیا تھا تو اس کے سوال کی بنا پر اس کو لوگوں کے لیے حرام کر دیا گیا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6117]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2358 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، وَنَقَّرَ عَنْهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس اور معمر دونوں نے اسی سند کے ساتھ زہری سے روایت کی اور معمر کی حدیث میں مزید بیان ہے: "وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کے بارے میں کریدا" اور یونس کی حدیث میں کہا: عامر بن سعد (سے روایت ہے) انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6118]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6118 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، وَنَقَّرَ عَنْهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس اور معمر دونوں نے اسی سند کے ساتھ زہری سے روایت کی اور معمر کی حدیث میں مزید بیان ہے: "وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کے بارے میں کریدا" اور یونس کی حدیث میں کہا: عامر بن سعد (سے روایت ہے) انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6118]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2359 صحیح مسلم
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، ويحيى بن محمد اللؤلئي ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، ويحيى بن محمد اللؤلئي وألفاظهم متقاربة، قَالَ مَحْمُودٌ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا "، قَالَ: فَمَا أَتَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ، قَالَ: غَطَّوْا رُءُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، قَالَ: فَقَامَ ذَاكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي، قَالَ: أَبُوكَ فُلَانٌ، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں موسیٰ بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے بارے میں کوئی بات پہنچی تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا، اور کہا: "جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے خیر اور شر کے بارے میں آج کے دن جیسی (تفصیلات) کبھی نہیں دیکھیں۔ جو میں جانتا ہوں، اگر تم (بھی) جان لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔" (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کبھی نہیں آیا۔ کہا: انہوں نے اپنے سر ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ کہا: تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ کہا: ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور پوچھا: میرا باپ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ فلاں تھا۔" اس پر آیت اتری: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6119]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6119 صحیح مسلم
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، ويحيى بن محمد اللؤلئي ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، ويحيى بن محمد اللؤلئي وألفاظهم متقاربة، قَالَ مَحْمُودٌ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا "، قَالَ: فَمَا أَتَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ، قَالَ: غَطَّوْا رُءُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، قَالَ: فَقَامَ ذَاكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي، قَالَ: أَبُوكَ فُلَانٌ، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں موسیٰ بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے بارے میں کوئی بات پہنچی تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا، اور کہا: "جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے خیر اور شر کے بارے میں آج کے دن جیسی (تفصیلات) کبھی نہیں دیکھیں۔ جو میں جانتا ہوں، اگر تم (بھی) جان لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔" (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کبھی نہیں آیا۔ کہا: انہوں نے اپنے سر ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ کہا: تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ کہا: ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور پوچھا: میرا باپ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ فلاں تھا۔" اس پر آیت اتری: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6119]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2359 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ فُلَانٌ، وَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 تَمَامَ الْآيَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا: مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تیرا باپ فلاں ہے۔" پھر یہ آیت نازل ہوئی: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔" مکمل آیت پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6120]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6120 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ فُلَانٌ، وَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 تَمَامَ الْآيَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا: مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تیرا باپ فلاں ہے۔" پھر یہ آیت نازل ہوئی: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔" مکمل آیت پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6120]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2359 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ، وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ، فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ، مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، بَرَكَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا، فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ: مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ، أَعَقَّ مِنْكَ، أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ، لَلَحِقْتُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور انہیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے بہت بڑے بڑے امور وقوع پذیر ہوں گے، پھر فرمایا: "جو شخص (ان میں سے) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہے تو سوال کر لے۔ اللہ کی قسم! میں جب تک اس جگہ کھڑا ہوں، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے میں تمھیں اس کے بارے میں بتاؤں گا۔" حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سنا اور آپ نے بار بار کہنا شروع کر دیا: "مجھ سے پوچھو" تو لوگ بہت روئے، اتنے میں عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ تھا۔" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زیادہ بار "مجھ سے پوچھو" فرمانا شروع کیا (اور پتہ چل گیا کہ آپ غصے میں کہہ رہے ہیں) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکوت اختیار فرما لیا۔ کہا: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اچھا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی کے اندر جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو خیر اور شر کے بارے میں جو میں نے آج دیکھا، کبھی نہیں دیکھا۔" ابن شہاب نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ (کی یہ بات سن کر ان) کی والدہ نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بیٹا تم سے زیادہ والدین کا حق پامال کرنے والا ہو۔ کیا تم خود کو اس بات سے محفوظ سمجھتے تھے کہ ہو سکتا ہے تمھاری ماں سے بھی کوئی ایسا کام ہو گیا ہو جو اہل جاہلیت کی عورتوں سے ہو جاتا تھا تو تم اس طرح (سوال کر کے) سب لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کر دیتے؟ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے بھی ملا دیتے تو میں اسی کی ولدیت اختیار کر لیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6121]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6121 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ، وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ، فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ، مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، بَرَكَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا، فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ: مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ، أَعَقَّ مِنْكَ، أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ، لَلَحِقْتُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور انہیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے بہت بڑے بڑے امور وقوع پذیر ہوں گے، پھر فرمایا: "جو شخص (ان میں سے) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہے تو سوال کر لے۔ اللہ کی قسم! میں جب تک اس جگہ کھڑا ہوں، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے میں تمھیں اس کے بارے میں بتاؤں گا۔" حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سنا اور آپ نے بار بار کہنا شروع کر دیا: "مجھ سے پوچھو" تو لوگ بہت روئے، اتنے میں عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ تھا۔" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زیادہ بار "مجھ سے پوچھو" فرمانا شروع کیا (اور پتہ چل گیا کہ آپ غصے میں کہہ رہے ہیں) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکوت اختیار فرما لیا۔ کہا: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اچھا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی کے اندر جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو خیر اور شر کے بارے میں جو میں نے آج دیکھا، کبھی نہیں دیکھا۔" ابن شہاب نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ (کی یہ بات سن کر ان) کی والدہ نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بیٹا تم سے زیادہ والدین کا حق پامال کرنے والا ہو۔ کیا تم خود کو اس بات سے محفوظ سمجھتے تھے کہ ہو سکتا ہے تمھاری ماں سے بھی کوئی ایسا کام ہو گیا ہو جو اہل جاہلیت کی عورتوں سے ہو جاتا تھا تو تم اس طرح (سوال کر کے) سب لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کر دیتے؟ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے بھی ملا دیتے تو میں اسی کی ولدیت اختیار کر لیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6121]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2359 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شُعَيْبًا، قَالَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ، قَالَتْ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث اور اس کے ساتھ عبیداللہ کی حدیث بیان کی، البتہ شعیب نے کہا: زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی، کہا مجھے علم رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے کہا: جس طرح یونس کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6122]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6122 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شُعَيْبًا، قَالَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ، قَالَتْ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث اور اس کے ساتھ عبیداللہ کی حدیث بیان کی، البتہ شعیب نے کہا: زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی، کہا مجھے علم رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے کہا: جس طرح یونس کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6122]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة