بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا واجب ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا واجب ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2357 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا سورة النساء آية 65.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں (برساتی نالیوں) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے۔ انصاری کہتا تھا: پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے، انہوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ (کو نرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان) سے کہا: "تم (جلدی سے اپنے باغ کو) پلا کر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کر دو۔" انصاری غضبناک ہو گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس لیے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے۔ (صدمے سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: "زبیر! (باغ کو) پانی دو، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گئے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے۔" زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت: "نہیں! آپ کے رب کی قسم! وہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے" اسی (واقعے) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6112]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6112 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا سورة النساء آية 65.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں (برساتی نالیوں) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے۔ انصاری کہتا تھا: پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے، انہوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ (کو نرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان) سے کہا: "تم (جلدی سے اپنے باغ کو) پلا کر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کر دو۔" انصاری غضبناک ہو گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس لیے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے۔ (صدمے سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: "زبیر! (باغ کو) پانی دو، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گئے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے۔" زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت: "نہیں! آپ کے رب کی قسم! وہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے" اسی (واقعے) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6112]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة