بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 2311 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: لَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرمایا ہو۔ نہیں [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6018]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6018 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: لَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرمایا ہو۔ نہیں [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6018]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2311 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، الْأَشْجَعِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ . ح، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اشجعی اور عبدالرحمن بن مہدی دونوں نے سفیان سے انہوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، بالکل اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6019]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6019 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، الْأَشْجَعِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ . ح، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اشجعی اور عبدالرحمن بن مہدی دونوں نے سفیان سے انہوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، بالکل اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6019]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2312 صحیح مسلم
عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حُمَيْدٌ ، مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسلام (لانے) پر جو بھی چیز طلب کی جاتی آپ وہ عطا فرماتے، کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا: میری قوم! مسلمان ہو جاؤ بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6020]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6020 صحیح مسلم
عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حُمَيْدٌ ، مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسلام (لانے) پر جو بھی چیز طلب کی جاتی آپ وہ عطا فرماتے، کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا: میری قوم! مسلمان ہو جاؤ بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6020]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2312 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: " أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں مانگیں، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری قوم اسلام لے آؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک کوئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جاتا تھا، پھر جونہی وہ اسلام لاتا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6021]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6021 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: " أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں مانگیں، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری قوم اسلام لے آؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک کوئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جاتا تھا، پھر جونہی وہ اسلام لاتا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6021]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2313 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، صَفْوَانَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، ثُمَّ مِائَةً، ثُمَّ مِائَةً ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ صَفْوَانَ ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي، حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے، پھر سو اونٹ پھر سو اونٹ۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جو عطا فرمایا، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تھا۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6022]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6022 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، صَفْوَانَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، ثُمَّ مِائَةً، ثُمَّ مِائَةً ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ صَفْوَانَ ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي، حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے، پھر سو اونٹ پھر سو اونٹ۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جو عطا فرمایا، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تھا۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6022]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2314 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، إِسْحَاقُ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ ، عَمْرٍو ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرٍ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ، لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا "، وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ، فَلْيَأْتِ، فَقُمْتُ: فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ، أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ لِي: عُدَّهَا، فَعَدَدْتُهَا، فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ، فَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، (اسی طرح) سفیان نے ابن منکدر سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز عمرو سے روایت ہے، انہوں نے محمد بن علی سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا، اسی طرح ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ انہی کے ہیں۔ کہا: سفیان نے کہا: میں نے محمد بن منکدر سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، سفیان نے یہ بھی کہا: میں نے عمرو بن دینار سے سنا، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ ان دونوں میں سے (بھی) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا، (حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا (یعنی تین لپ بھر کر)۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ وہ مال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لیے حکم دیا کہ جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا، اتنا اور اتنا دیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے (تو تین لپ ہو گئے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6023]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6023 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، إِسْحَاقُ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ ، عَمْرٍو ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرٍ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ، لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا "، وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ، فَلْيَأْتِ، فَقُمْتُ: فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ، أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ لِي: عُدَّهَا، فَعَدَدْتُهَا، فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ، فَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، (اسی طرح) سفیان نے ابن منکدر سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز عمرو سے روایت ہے، انہوں نے محمد بن علی سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا، اسی طرح ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ انہی کے ہیں۔ کہا: سفیان نے کہا: میں نے محمد بن منکدر سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، سفیان نے یہ بھی کہا: میں نے عمرو بن دینار سے سنا، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ ان دونوں میں سے (بھی) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا، (حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا (یعنی تین لپ بھر کر)۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ وہ مال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لیے حکم دیا کہ جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا، اتنا اور اتنا دیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے (تو تین لپ ہو گئے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6023]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2314 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ، فَلْيَأْتِنَا، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَة.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے محمد بن علی سے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز کہا: مجھے محمد بن منکدر نے (بھی) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی تھی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس (بحرین کے گورنر) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا آپ کی طرف سے کسی کے ساتھ وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے۔ (آگے) ابن عیینہ کی حدیث کی مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6024]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6024 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ، فَلْيَأْتِنَا، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَة.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے محمد بن علی سے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز کہا: مجھے محمد بن منکدر نے (بھی) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی تھی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس (بحرین کے گورنر) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا آپ کی طرف سے کسی کے ساتھ وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے۔ (آگے) ابن عیینہ کی حدیث کی مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6024]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة