بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عبد یا امة یا مولیٰ یا سید، ان لفظوں کے بولنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ادب اور دوسری باتوں (عقیدے اور انسانی رویوں) سے متعلق الفاظ باب: عبد یا امة یا مولیٰ یا سید، ان لفظوں کے بولنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 2249 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، وَأَمَتِي، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي، وَجَارِيَتِي، وَفَتَايَ، وَفَتَاتِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔ البتہ یوں کہہ سکتا ہے: میرا لڑکا، میری لڑکی، میرا جوان، خادم، میری خادمہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5874]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5874 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، وَأَمَتِي، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي، وَجَارِيَتِي، وَفَتَايَ، وَفَتَاتِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔ البتہ یوں کہہ سکتا ہے: میرا لڑکا، میری لڑکی، میرا جوان، خادم، میری خادمہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5874]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2249 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ، وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص (کسی غلام کو) میرا بندہ نہ کہے، پس تم سب اللہ کے بندے ہو، البتہ یہ کہہ سکتا ہے: میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے: میرا رب (پالنے والا) البتہ میرا سید (آقا) کہہ سکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5875]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5875 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ، وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص (کسی غلام کو) میرا بندہ نہ کہے، پس تم سب اللہ کے بندے ہو، البتہ یہ کہہ سکتا ہے: میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے: میرا رب (پالنے والا) البتہ میرا سید (آقا) کہہ سکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5875]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2249 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ: مَوْلَايَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ: فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے:غلام اپنے آقا کو میرا مولا نہ کہے۔ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفاظ ہیں:کیونکہ تمہارا مولا اللہ عزوجل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5876]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5876 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ: مَوْلَايَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ: فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے:غلام اپنے آقا کو میرا مولا نہ کہے۔ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفاظ ہیں:کیونکہ تمہارا مولا اللہ عزوجل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5876]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2249 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اسْقِ رَبَّكَ، أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: رَبِّي، وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي مَوْلَايَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں (ایک یہ) ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص (اپنے غلام یا کنیز سے) یہ نہ کہے: اپنے رب (پالنہار) کو پلاؤ، اپنے رب کو کھلاؤ، اپنے رب کو وضو کراؤ۔اور فرمایا:تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولا کہے۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، البتہ یوں کہے: میرا خادم، جوان، میری خادمہ، میرا لڑکا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5877]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5877 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اسْقِ رَبَّكَ، أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: رَبِّي، وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي مَوْلَايَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں (ایک یہ) ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص (اپنے غلام یا کنیز سے) یہ نہ کہے: اپنے رب (پالنہار) کو پلاؤ، اپنے رب کو کھلاؤ، اپنے رب کو وضو کراؤ۔اور فرمایا:تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولا کہے۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، البتہ یوں کہے: میرا خادم، جوان، میری خادمہ، میرا لڑکا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5877]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة