عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ، فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ، قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب ان کے خاندان میں سے کسی فرد کا انتقال ہوتا تو عورتیں (اس کی تعزیت کے لیے) جمع ہو جاتیں، پھر ان کے گھر والے اور خواص رہ جاتے اور باقی لوگ چلے جاتے، اس وقت وہ تلبینہ کی ایک ہانڈی (دیگچی) پکانے کو کہتیں تلبینہ پکایا جاتا، پھر ثرید بنایا جاتا اور اس پر تلبینہ ڈالا جاتا، پھر وہ کہتیں: یہ کھاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”تلبینہ بیمار کے دل کو راحت بخشتا ہے اور غم کو ہلکا کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5769]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة