بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: منہ میں دوا ڈالنے کی کراہت کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سلامتی اور صحت کا بیان باب: منہ میں دوا ڈالنے کی کراہت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2213 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: " لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض میں ہم نے آپ کی مرضی کے بغیر منہ کے کونے سے آپ کے دہن مبارک میں دوائی ڈالی، آپ نے اشارے سے روکا بھی کہ مجھے زبردستی دوائی نہ پلاؤ، ہم نے (آپس میں) کہا: یہ مریض کی طبعی طور پر دوائی کی ناپسندیدگی (کی وجہ سے) ہے۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ بچے، سب کو زبردستی (ہی) دوائی پلائی جائے، سوائے عباس رضی اللہ عنہما کے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ موجود نہیں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5761]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5761 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: " لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض میں ہم نے آپ کی مرضی کے بغیر منہ کے کونے سے آپ کے دہن مبارک میں دوائی ڈالی، آپ نے اشارے سے روکا بھی کہ مجھے زبردستی دوائی نہ پلاؤ، ہم نے (آپس میں) کہا: یہ مریض کی طبعی طور پر دوائی کی ناپسندیدگی (کی وجہ سے) ہے۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ بچے، سب کو زبردستی (ہی) دوائی پلائی جائے، سوائے عباس رضی اللہ عنہما کے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ موجود نہیں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5761]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة