أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قال: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟، فَقَالَ: " اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5732]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة