بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: زنانہ مخنث، اجنبی عورتوں کے پاس نہ جائے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سلامتی اور صحت کا بیان باب: زنانہ مخنث، اجنبی عورتوں کے پاس نہ جائے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 2180 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ أَيْضًا، وَاللَّفْظُ هَذَا، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّة إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں موجود تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سے کہنے لگا: عبداللہ بن ابی امیہ! اگر کل (کلاء کو) اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو طائف پر فتح عطا فرمائے تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی (بادیہ بنت غیلان) کا پتہ بتاؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے (سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جاتی ہے۔ (انتہائی فربہ جسم کی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فرمایا: یہ (مخنث) تمہارے ہاں داخل نہ ہوا کریں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5690]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5690 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ أَيْضًا، وَاللَّفْظُ هَذَا، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّة إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں موجود تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سے کہنے لگا: عبداللہ بن ابی امیہ! اگر کل (کلاء کو) اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو طائف پر فتح عطا فرمائے تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی (بادیہ بنت غیلان) کا پتہ بتاؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے (سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جاتی ہے۔ (انتہائی فربہ جسم کی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فرمایا: یہ (مخنث) تمہارے ہاں داخل نہ ہوا کریں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5690]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2181 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ، فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ: إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ "، قَالَتْ: فَحَجَبُوهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسے جنسی معاملات سے بے بہرہ سمجھا کرتی تھیں۔ فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا وہ کہنے لگا: جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے، یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔ تو انہوں نے (امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن) نے اس سے پردہ کر لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5691]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5691 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ، فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ: إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ "، قَالَتْ: فَحَجَبُوهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسے جنسی معاملات سے بے بہرہ سمجھا کرتی تھیں۔ فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا وہ کہنے لگا: جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے، یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔ تو انہوں نے (امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن) نے اس سے پردہ کر لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5691]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة