بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس کا بچہ نہ ہوا ہو اس کو اور کمسن کو کنیت رکھنا درست ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم معاشرتی آداب کا بیان باب: جس کا بچہ نہ ہوا ہو اس کو اور کمسن کو کنیت رکھنا درست ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2150 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ . ح وحدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ، قَالَ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: كَانَ فَطِيمًا، قَالَ: فَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ، قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ: مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟، قَالَ: فَكَانَ يَلْعَبُ بِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام انسانوں سے بڑھ کر خوش اخلاق تھے، میرا ایک بھائی تھا جسے ابوعمیر کہا جاتا تھا۔ (ابوتیاح نے) کہا: میرا خیال ہے (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا تھا: اس کا دودھ چھڑایا جا چکا تھا، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لاتے اور اسے دیکھتے تو فرماتے: ابوعمیر! نغیر نے کیا کیا؟ وہ بچہ اس (پرندے) سے کھیلا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5622]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5622 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ . ح وحدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ، قَالَ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: كَانَ فَطِيمًا، قَالَ: فَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ، قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ: مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟، قَالَ: فَكَانَ يَلْعَبُ بِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام انسانوں سے بڑھ کر خوش اخلاق تھے، میرا ایک بھائی تھا جسے ابوعمیر کہا جاتا تھا۔ (ابوتیاح نے) کہا: میرا خیال ہے (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا تھا: اس کا دودھ چھڑایا جا چکا تھا، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لاتے اور اسے دیکھتے تو فرماتے: ابوعمیر! نغیر نے کیا کیا؟ وہ بچہ اس (پرندے) سے کھیلا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5622]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة