بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سرکہ کی فضیلت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مشروبات کا بیان باب: سرکہ کی فضیلت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 2051 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نِعْمَ الْأُدُمُ أَوِ الْإِدَامُ الْخَلُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن حسان نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سالنوں میں سے عمدہ یا (فرمایا) عمدہ سالن سرکہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5350]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5350 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نِعْمَ الْأُدُمُ أَوِ الْإِدَامُ الْخَلُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن حسان نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سالنوں میں سے عمدہ یا (فرمایا) عمدہ سالن سرکہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5350]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2051 صحیح مسلم
مُوسَى بْنُ قُرَيْشِ بْنِ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ ، يَحْيَي بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ
وحَدَّثَنَاه مُوسَى بْنُ قُرَيْشِ بْنِ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ نِعْمَ الْأُدُمُ وَلَمْ يَشُكَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن صالح وحاظی نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کہا: سالنوں میں سے عمدہ اور شک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5351]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5351 صحیح مسلم
مُوسَى بْنُ قُرَيْشِ بْنِ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ ، يَحْيَي بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ
وحَدَّثَنَاه مُوسَى بْنُ قُرَيْشِ بْنِ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ نِعْمَ الْأُدُمُ وَلَمْ يَشُكَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن صالح وحاظی نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کہا: سالنوں میں سے عمدہ اور شک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5351]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2052 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدُمَ، فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ، فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ، وَيَقُولُ: " نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبشر نے ابوسفیان (طلحہ بن نافع) سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے آپ نے سرکہ منگوایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھانا شروع کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے رہے: سرکہ عمدہ سالن ہے سرکہ عمدہ سالن ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5352]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5352 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدُمَ، فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ، فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ، وَيَقُولُ: " نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبشر نے ابوسفیان (طلحہ بن نافع) سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے آپ نے سرکہ منگوایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھانا شروع کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے رہے: سرکہ عمدہ سالن ہے سرکہ عمدہ سالن ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5352]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2052 صحیح مسلم
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ، فَقَالَ: " مَا مِنْ أُدُمٍ؟ "، فَقَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ: " فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدُمُ "، قَالَ جَابِرٌ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ طَلْحَةُ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ جَابِرٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی کہا: مجھے طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تو خادم آپ کے لیے روٹی کے کچھ ٹکڑے نکال کر لایا آپ نے پوچھا: کوئی سالن نہیں ہے؟ اس نے کہا: تھوڑا سا سرکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ سرکہ عمدہ سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سنا ہے میں سرکہ پسند کرتا ہوں اور طلحہ (راوی) نے کہا: جب سے میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے میں بھی سرکہ کو پسند کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5353]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5353 صحیح مسلم
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ، فَقَالَ: " مَا مِنْ أُدُمٍ؟ "، فَقَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ: " فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدُمُ "، قَالَ جَابِرٌ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ طَلْحَةُ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ جَابِرٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی کہا: مجھے طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تو خادم آپ کے لیے روٹی کے کچھ ٹکڑے نکال کر لایا آپ نے پوچھا: کوئی سالن نہیں ہے؟ اس نے کہا: تھوڑا سا سرکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ سرکہ عمدہ سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سنا ہے میں سرکہ پسند کرتا ہوں اور طلحہ (راوی) نے کہا: جب سے میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے میں بھی سرکہ کو پسند کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5353]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2052 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَبِي ، الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَى قَوْلِهِ فَنِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نصر کے والد علی جہضمی نے کہا: ہمیں مثنیٰ بن سعید نے طلحہ بن نافع سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول: سرکہ عمدہ سالن ہے تک ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5354]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5354 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَبِي ، الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَى قَوْلِهِ فَنِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نصر کے والد علی جہضمی نے کہا: ہمیں مثنیٰ بن سعید نے طلحہ بن نافع سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول: سرکہ عمدہ سالن ہے تک ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5354]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2052 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ، أَبُو سُفْيَانَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي دَارِي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ الْحِجَابَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟ "، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ فَوُضِعْنَ عَلَى نَبِيٍّ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَخَذَ قُرْصًا آخَرَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ثُمَّ أَخَذَ الثَّالِثَ فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ، فَجَعَلَ نِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ مِنْ أُدُمٍ؟ "، قَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ: " هَاتُوهُ فَنِعْمَ الْأُدُمُ هُوَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حجاج بن ابی زینب نے کہا: مجھے ابوسفیان طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں کسی گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا، آپ نے میری طرف اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجروں میں سے کسی کے حجرے پر آئے اور اندر داخل ہو گئے پھر مجھے بھی آنے کی اجازت دی میں (حجرہ انور میں) ان کے حجاب کے عالم میں داخل ہوا آپ نے فرمایا: کچھ کھانے کو ہے؟ گھر والوں نے کہا: ہے اور تین روٹیاں لائی گئیں اور ان کو ایک اونی رومال (دستر خوان) پر رکھ دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے تیسری کے دو ٹکڑے کیے، آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے پوچھا: کوئی سالن بھی ہے؟ گھر والوں نے کہا: تھوڑا سا سرکہ ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لے آؤ سرکہ کیا خوب سالن ہے! [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5355]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5355 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ، أَبُو سُفْيَانَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي دَارِي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ الْحِجَابَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟ "، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ فَوُضِعْنَ عَلَى نَبِيٍّ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَخَذَ قُرْصًا آخَرَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ثُمَّ أَخَذَ الثَّالِثَ فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ، فَجَعَلَ نِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ مِنْ أُدُمٍ؟ "، قَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ: " هَاتُوهُ فَنِعْمَ الْأُدُمُ هُوَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حجاج بن ابی زینب نے کہا: مجھے ابوسفیان طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں کسی گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا، آپ نے میری طرف اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجروں میں سے کسی کے حجرے پر آئے اور اندر داخل ہو گئے پھر مجھے بھی آنے کی اجازت دی میں (حجرہ انور میں) ان کے حجاب کے عالم میں داخل ہوا آپ نے فرمایا: کچھ کھانے کو ہے؟ گھر والوں نے کہا: ہے اور تین روٹیاں لائی گئیں اور ان کو ایک اونی رومال (دستر خوان) پر رکھ دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے تیسری کے دو ٹکڑے کیے، آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے پوچھا: کوئی سالن بھی ہے؟ گھر والوں نے کہا: تھوڑا سا سرکہ ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لے آؤ سرکہ کیا خوب سالن ہے! [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5355]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة