بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مستحب ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مشروبات کا بیان باب: کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مستحب ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 2042 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ، فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، قَالَ شُعْبَةُ: هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ، فَقَالَ أَبِي: وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ: " بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے والد کے ہاں مہمان ہوئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر آپ کے سامنے کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے۔ اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے جا رہے تھے۔ (کھانے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں۔ شعبہ نے کہا: میرا گمان (غالب) ہے اور ان شاء اللہ یہ بات یعنی گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنا اس (حدیث) میں ہے۔ پھر (آپ کے سامنے) مشروب لایا گیا۔ آپ نے اسے پیا، پھر اپنی دائیں جانب والے کو دے دیا۔ (عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے والد نے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی عرض کی: ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5328]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5328 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ، فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، قَالَ شُعْبَةُ: هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ، فَقَالَ أَبِي: وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ: " بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے والد کے ہاں مہمان ہوئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر آپ کے سامنے کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے۔ اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے جا رہے تھے۔ (کھانے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں۔ شعبہ نے کہا: میرا گمان (غالب) ہے اور ان شاء اللہ یہ بات یعنی گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنا اس (حدیث) میں ہے۔ پھر (آپ کے سامنے) مشروب لایا گیا۔ آپ نے اسے پیا، پھر اپنی دائیں جانب والے کو دے دیا۔ (عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے والد نے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی عرض کی: ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5328]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2042 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَشُكَّا فِي إِلْقَاءِ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عدی اور یحییٰ بن حماد دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنے کے بارے میں شک (کا اظہار) نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5329]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5329 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَشُكَّا فِي إِلْقَاءِ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عدی اور یحییٰ بن حماد دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنے کے بارے میں شک (کا اظہار) نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5329]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة