بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دودھ یا پانی یا کوئی چیز شروع کرنے والے کے داہنی طرف سے تقسیم کرنا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مشروبات کا بیان باب: دودھ یا پانی یا کوئی چیز شروع کرنے والے کے داہنی طرف سے تقسیم کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 2029 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں (ٹھنڈا کرنے کے لئے) پانی ملایا گیا تھا۔ آپ کی دائیں طرف ایک اعرابی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دایاں، اس کے بعد پھر دایاں (مقدم ہوگا) [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5289]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5289 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں (ٹھنڈا کرنے کے لئے) پانی ملایا گیا تھا۔ آپ کی دائیں طرف ایک اعرابی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دایاں، اس کے بعد پھر دایاں (مقدم ہوگا) [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5289]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2029 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ، " فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ أَبَا بَكْر ٍ، فَأَعْطَاهُ أَعْرَابِيًّا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا۔ میری مائیں (والدہ، خالائیں، پھوپھیاں) مسلسل مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرنے کا شوق دلایا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنوئیں کا پانی ملایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اور اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔ اللہ کے رسول! ابوبکر کو عنایت فرما دیجئے، لیکن آپ نے وہ (دودھ کا برتن) اپنی دائیں جانب (بیٹھے ہوئے) بدو کو تھما دیا اور فرمایا: دایاں، پھر (اس کے بعد والا) دایاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5290]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5290 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ، " فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ أَبَا بَكْر ٍ، فَأَعْطَاهُ أَعْرَابِيًّا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا۔ میری مائیں (والدہ، خالائیں، پھوپھیاں) مسلسل مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرنے کا شوق دلایا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنوئیں کا پانی ملایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اور اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔ اللہ کے رسول! ابوبکر کو عنایت فرما دیجئے، لیکن آپ نے وہ (دودھ کا برتن) اپنی دائیں جانب (بیٹھے ہوئے) بدو کو تھما دیا اور فرمایا: دایاں، پھر (اس کے بعد والا) دایاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5290]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2029 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَاسْتَسْقَى فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِي هَذِهِ، قَالَ: فَأَعْطَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ وِجَاهَهُ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شُرْبِهِ، قَالَ عُمَرُ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُرِيهِ إِيَّاهُ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابِيَّ وَتَرَكَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ "، قَالَ أَنَسٌ: فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوطوالہ عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر میں آئے اور پانی مانگا۔ ہم نے بکری کا دودھ دوہا، پھر اس میں اپنے اس کنوئیں سے پانی ملایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیر ہو کر پی لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (باقی) اعرابی کو دیا اور سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیا اور فرمایا: دائیں طرف والے مقدم ہیں دائیں طرف والے، پھر دائیں طرف والے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سنت ہے، یہ سنت ہے، یہ سنت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5291]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5291 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَاسْتَسْقَى فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِي هَذِهِ، قَالَ: فَأَعْطَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ وِجَاهَهُ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شُرْبِهِ، قَالَ عُمَرُ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُرِيهِ إِيَّاهُ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابِيَّ وَتَرَكَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ "، قَالَ أَنَسٌ: فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوطوالہ عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر میں آئے اور پانی مانگا۔ ہم نے بکری کا دودھ دوہا، پھر اس میں اپنے اس کنوئیں سے پانی ملایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیر ہو کر پی لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (باقی) اعرابی کو دیا اور سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیا اور فرمایا: دائیں طرف والے مقدم ہیں دائیں طرف والے، پھر دائیں طرف والے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سنت ہے، یہ سنت ہے، یہ سنت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5291]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2030 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ؟ "، فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز آئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑے لوگ تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا: تو مجھ کو بڑے لوگوں کو پہلے دینے کی اجازت دیتا ہے؟ وہ بولا کہ نہیں اللہ کی قسم میں اپنا حصہ کسی دوسرے کو نہیں دینا چاہتا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5292]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5292 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ؟ "، فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز آئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑے لوگ تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا: تو مجھ کو بڑے لوگوں کو پہلے دینے کی اجازت دیتا ہے؟ وہ بولا کہ نہیں اللہ کی قسم میں اپنا حصہ کسی دوسرے کو نہیں دینا چاہتا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5292]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2030 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُولَا فَتَلَّهُ وَلَكِنْ فِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبدالرحمن القاری، دونوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، ان دونوں نے یہ نہیں کہا: آپ نے وہ (پیالہ اس کے ہاتھ پر) رکھ دیا، البتہ یعقوب کی روایت میں اس طرح ہے کہ آپ نے وہ (پیالہ) اسے عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5293]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5293 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُولَا فَتَلَّهُ وَلَكِنْ فِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبدالرحمن القاری، دونوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، ان دونوں نے یہ نہیں کہا: آپ نے وہ (پیالہ اس کے ہاتھ پر) رکھ دیا، البتہ یعقوب کی روایت میں اس طرح ہے کہ آپ نے وہ (پیالہ) اسے عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5293]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة