بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دودھ پینے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مشروبات کا بیان باب: دودھ پینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 2009 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَال: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَحَلَبْتُ لَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق (ہمدانی) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی، انہوں (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) نے کہا: تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کچھ دودھ دوہا، پھر میں آپ کے پاس وہ دودھ لایا، آپ نے اسے نوش فرمایا، یہاں تک کہ میں راضی ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5238]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5238 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَال: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَحَلَبْتُ لَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق (ہمدانی) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی، انہوں (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) نے کہا: تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کچھ دودھ دوہا، پھر میں آپ کے پاس وہ دودھ لایا، آپ نے اسے نوش فرمایا، یہاں تک کہ میں راضی ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5238]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2009 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ ، الْبَرَاءَ ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولَ: لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَتْبَعَهُ سُراقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَتْ فَرَسُهُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكَ، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ، قَالَ: فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : " فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابواسحاق ہمدانی سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے (مشرکوں کی طرف سے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پیچھا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا (زمین میں) دھنس گیا (یعنی زمین نے اس کو پکڑ لیا)۔ وہ بولا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے، میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ سے دعا کی (تو اس کو نجات ملی)، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے پیا، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5239]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5239 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ ، الْبَرَاءَ ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولَ: لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَتْبَعَهُ سُراقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَتْ فَرَسُهُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكَ، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ، قَالَ: فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : " فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابواسحاق ہمدانی سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے (مشرکوں کی طرف سے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پیچھا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا (زمین میں) دھنس گیا (یعنی زمین نے اس کو پکڑ لیا)۔ وہ بولا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے، میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ سے دعا کی (تو اس کو نجات ملی)، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے پیا، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5239]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 168 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو صَفْوَانَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّاد ٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَأَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے زہری سے روایت کی، کہا: ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی (یعنی اسلام کی اور استقامت کی)۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5240]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5240 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو صَفْوَانَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّاد ٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَأَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے زہری سے روایت کی، کہا: ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی (یعنی اسلام کی اور استقامت کی)۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5240]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 168 صحیح مسلم
سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، مَعْقِلٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ بِإِيلِيَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معقل نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (دو پیالے) لائے گئے، اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ انہوں (معقل) نے ایلیاء کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5241]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5241 صحیح مسلم
سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، مَعْقِلٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ بِإِيلِيَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معقل نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (دو پیالے) لائے گئے، اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ انہوں (معقل) نے ایلیاء کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5241]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة