بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: خمر کی حرمت کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مشروبات کا بیان باب: خمر کی حرمت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1979 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: " أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ، فَقَالَتْ: أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ، فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ: وَمِنَ السَّنَامِ؟، قَالَ: قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عَلِيٌّ: فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي، فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ، فَقَالَ: هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی، کہا: مجھے ابن شہاب نے علی بن حسین بن علی سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک (جوان اونٹنی حاصل ہوئی۔ ایک اور جوان اونٹنی (خمس میں سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی۔ ایک دن میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھایا اور میں ان دونوں پر بیچنے کے لیے اذخر (کی خوشبو دار گھاس) لاد کر لانا چاہتا تھا۔۔۔ بنو قینقاع کا سنار بھی میرے ساتھ تھا۔۔۔ اور اس (کی قیمت) سے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ اپنی شادی) کے ولیمے میں مدد لینا چاہتا تھا۔ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس گھر میں (بیٹھے) شراب پی رہے تھے، ان کے قریب ایک گانے والی عورت گا رہی تھی پھر وہ یہ اشعار گانے لگی۔ سنیں حمزہ! (اٹھ کر) موٹی اونٹنیوں کی طرف بڑھیں (دوسرا مصرع ہے۔ وَہُنَّ مُعَقَّلَاتٌ بِالْفِنَاءِ اور گھر کے آگے کھلی جگہ میں بندھی ہوئی ہیں۔) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار سمیت لپک کر ان کی طرف بڑھے ان کے کوہانوں کو جڑ سے کاٹ لیا ان کے پہلو چیر دیے پھر ان کے کلیجے نکال لیے۔ میں نے ابن شہاب سے کہا: اور کوہان بھی؟ انہوں نے کہا: وہ (حمزہ رضی اللہ عنہ) ان دونوں کے کوہان جڑ سے کاٹ کر لے گئے۔ ابن شہاب نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے دہلا کر رکھ دیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس موجود تھے۔ آپ زید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکل پڑے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا۔ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور غصے کا اظہار فرمایا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے آنکھ اٹھائی اور کہنے لگے: تم میرے آبا و اجداد کے غلاموں سے بڑھ کر کیا ہو! (وہ دونوں جناب عبدالمطلب کے پوتے تھے اور رشتے کے حوالے سے خدمت گزاری کے مقام پر تھے۔ حمزہ رضی اللہ عنہ رشتے میں ان سے ایک پشت اوپر تھے۔ انہوں نے شراب کی لہر میں اسی بات کو مبالغہ آمیز فخر و مباہات کے رنگ میں کہہ دیا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہوئے اور ان کی محفل سے نکل آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5127]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5127 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: " أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ، فَقَالَتْ: أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ، فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ: وَمِنَ السَّنَامِ؟، قَالَ: قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عَلِيٌّ: فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي، فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ، فَقَالَ: هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی، کہا: مجھے ابن شہاب نے علی بن حسین بن علی سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک (جوان اونٹنی حاصل ہوئی۔ ایک اور جوان اونٹنی (خمس میں سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی۔ ایک دن میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھایا اور میں ان دونوں پر بیچنے کے لیے اذخر (کی خوشبو دار گھاس) لاد کر لانا چاہتا تھا۔۔۔ بنو قینقاع کا سنار بھی میرے ساتھ تھا۔۔۔ اور اس (کی قیمت) سے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ اپنی شادی) کے ولیمے میں مدد لینا چاہتا تھا۔ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس گھر میں (بیٹھے) شراب پی رہے تھے، ان کے قریب ایک گانے والی عورت گا رہی تھی پھر وہ یہ اشعار گانے لگی۔ سنیں حمزہ! (اٹھ کر) موٹی اونٹنیوں کی طرف بڑھیں (دوسرا مصرع ہے۔ وَہُنَّ مُعَقَّلَاتٌ بِالْفِنَاءِ اور گھر کے آگے کھلی جگہ میں بندھی ہوئی ہیں۔) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار سمیت لپک کر ان کی طرف بڑھے ان کے کوہانوں کو جڑ سے کاٹ لیا ان کے پہلو چیر دیے پھر ان کے کلیجے نکال لیے۔ میں نے ابن شہاب سے کہا: اور کوہان بھی؟ انہوں نے کہا: وہ (حمزہ رضی اللہ عنہ) ان دونوں کے کوہان جڑ سے کاٹ کر لے گئے۔ ابن شہاب نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے دہلا کر رکھ دیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس موجود تھے۔ آپ زید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکل پڑے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا۔ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور غصے کا اظہار فرمایا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے آنکھ اٹھائی اور کہنے لگے: تم میرے آبا و اجداد کے غلاموں سے بڑھ کر کیا ہو! (وہ دونوں جناب عبدالمطلب کے پوتے تھے اور رشتے کے حوالے سے خدمت گزاری کے مقام پر تھے۔ حمزہ رضی اللہ عنہ رشتے میں ان سے ایک پشت اوپر تھے۔ انہوں نے شراب کی لہر میں اسی بات کو مبالغہ آمیز فخر و مباہات کے رنگ میں کہہ دیا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہوئے اور ان کی محفل سے نکل آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5127]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1979 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5128]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5128 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5128]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1979 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ، عَلِيًّا
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ: " كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ، فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ، فَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، قُلْتُ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟، قَالُوا: فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا: أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ؟، فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، فَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، قَالَ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ؟، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَهُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُ، فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ حَمْزَةُ: وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن وہب نے کہا: مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے علی بن حسین بن علی نے بتایا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن مال غنیمت میں ایک اونٹنی ملی اور اسی دن ایک اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے خمس میں سے اور دی۔ پھر جب میں نے چاہا کہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی کروں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی تھیں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان پالان، رکابیں اور رسیاں وغیرہ اکٹھا کر رہا تھا اور وہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کی کوٹھری کے بازو میں بیٹھی تھیں۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکٹھا کر رہا تھا اکٹھا کر کے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں، ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے جگر نکال لیے گئے۔ مجھ سے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں (یعنی میں رونے لگا یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدہ فاطمہ الزہراء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی، اس خیال سے تھا)۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا کہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ اس گھر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ ہیں جو شراب پی رہے ہیں، ان کے سامنے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا تو گانے میں یہ کہا کہ اے حمزہ اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو اسی وقت لے۔ حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لیے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر (کلیجہ) نکال لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا، وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے سے رنج و مصیبت کو پہچان لیا اور فرمایا کہ تجھ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کیا، ان کے کوہان کاٹ لیے، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں چند شرابیوں کے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر منگوا کر اوڑھی اور پھر پیدل چلے، میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ لوگوں نے اجازت دی۔ دیکھا تو وہ شراب پئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی اور سیدنا حمزہ کی آنکھیں (نشے کی وجہ سے) سرخ تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ کے گھٹنوں کو دیکھا، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا۔ پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا اور (نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے) کہا کہ تم تو میرے باپ دادوں کے غلام ہو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5129]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5129 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ، عَلِيًّا
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ: " كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ، فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ، فَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، قُلْتُ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟، قَالُوا: فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا: أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ؟، فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، فَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، قَالَ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ؟، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَهُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُ، فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ حَمْزَةُ: وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن وہب نے کہا: مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے علی بن حسین بن علی نے بتایا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن مال غنیمت میں ایک اونٹنی ملی اور اسی دن ایک اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے خمس میں سے اور دی۔ پھر جب میں نے چاہا کہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی کروں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی تھیں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان پالان، رکابیں اور رسیاں وغیرہ اکٹھا کر رہا تھا اور وہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کی کوٹھری کے بازو میں بیٹھی تھیں۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکٹھا کر رہا تھا اکٹھا کر کے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں، ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے جگر نکال لیے گئے۔ مجھ سے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں (یعنی میں رونے لگا یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدہ فاطمہ الزہراء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی، اس خیال سے تھا)۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا کہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ اس گھر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ ہیں جو شراب پی رہے ہیں، ان کے سامنے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا تو گانے میں یہ کہا کہ اے حمزہ اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو اسی وقت لے۔ حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لیے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر (کلیجہ) نکال لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا، وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے سے رنج و مصیبت کو پہچان لیا اور فرمایا کہ تجھ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کیا، ان کے کوہان کاٹ لیے، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں چند شرابیوں کے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر منگوا کر اوڑھی اور پھر پیدل چلے، میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ لوگوں نے اجازت دی۔ دیکھا تو وہ شراب پئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی اور سیدنا حمزہ کی آنکھیں (نشے کی وجہ سے) سرخ تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ کے گھٹنوں کو دیکھا، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا۔ پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا اور (نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے) کہا کہ تم تو میرے باپ دادوں کے غلام ہو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5129]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1979 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن مبارک نے یونس سے انہوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5130]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5130 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن مبارک نے یونس سے انہوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5130]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1980 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ، وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي، فَقَالَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا فَهَرَقْتُهَا، فَقَالُوا أَوَ قَالَ بَعْضُهُمْ: قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ "، قَالَ: فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جس دن شراب حرام کی گئی، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر (لوگوں کو) شراب پلا رہا تھا۔ ان کی شراب ادھ پکی اور خشک کھجوروں سے تیار شدہ شراب کے سوا اور کوئی نہ تھی، اتنے میں ایک اعلان کرنے والا پکارنے لگا۔ انہوں نے کہا: میں جاؤں اور دیکھوں تو (دیکھا کہ وہاں) ایک منادی اعلان کر رہا تھا: (لوگو) سنو! شراب حرام کر دی گئی۔ کہا: پھر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: نکلو اور اسے بہا دو! میں نے وہ (سب) بہا دی۔ تو لوگوں نے کہا۔۔۔ یا ان میں سے کچھ نے کہا۔۔۔ فلاں شہید ہوا تھا اور فلاں شہید ہوا تھا تو یہ (شراب) ان کے پیٹ میں موجود تھی۔۔۔ (ایک راوی نے) کہا: مجھے معلوم نہیں یہ (بھی) حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے ہے (یا نہیں)۔۔۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ) نازل فرمائی: جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے جب انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ایمان لائے اور نیک عمل کیے (تو) ان پر اس چیز کے سبب کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے (حرمت سے پہلے) کھایا پیا (تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5131]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5131 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ، وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي، فَقَالَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا فَهَرَقْتُهَا، فَقَالُوا أَوَ قَالَ بَعْضُهُمْ: قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ "، قَالَ: فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جس دن شراب حرام کی گئی، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر (لوگوں کو) شراب پلا رہا تھا۔ ان کی شراب ادھ پکی اور خشک کھجوروں سے تیار شدہ شراب کے سوا اور کوئی نہ تھی، اتنے میں ایک اعلان کرنے والا پکارنے لگا۔ انہوں نے کہا: میں جاؤں اور دیکھوں تو (دیکھا کہ وہاں) ایک منادی اعلان کر رہا تھا: (لوگو) سنو! شراب حرام کر دی گئی۔ کہا: پھر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: نکلو اور اسے بہا دو! میں نے وہ (سب) بہا دی۔ تو لوگوں نے کہا۔۔۔ یا ان میں سے کچھ نے کہا۔۔۔ فلاں شہید ہوا تھا اور فلاں شہید ہوا تھا تو یہ (شراب) ان کے پیٹ میں موجود تھی۔۔۔ (ایک راوی نے) کہا: مجھے معلوم نہیں یہ (بھی) حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے ہے (یا نہیں)۔۔۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ) نازل فرمائی: جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے جب انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ایمان لائے اور نیک عمل کیے (تو) ان پر اس چیز کے سبب کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے (حرمت سے پہلے) کھایا پیا (تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5131]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1980 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ، فَقَالَ: مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ، وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: " هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ؟ قُلْنَا: لَا قَالَ: فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ يَا أَنَسُ: أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ، قَالَ: فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے فضیخ (ملی جلی کچی اور پکی ہوئی کھجوروں کا رس جس میں خمیر اٹھ جائے) کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا: تمہارے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کوئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابوطلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: تمہیں خبر پہنچی؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: انس! (شراب کے) یہ سارے مٹکے بہا دو۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں (کبھی) کچھ پوچھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5132]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5132 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ، فَقَالَ: مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ، وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: " هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ؟ قُلْنَا: لَا قَالَ: فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ يَا أَنَسُ: أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ، قَالَ: فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے فضیخ (ملی جلی کچی اور پکی ہوئی کھجوروں کا رس جس میں خمیر اٹھ جائے) کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا: تمہارے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کوئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابوطلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: تمہیں خبر پہنچی؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: انس! (شراب کے) یہ سارے مٹکے بہا دو۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں (کبھی) کچھ پوچھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5132]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1980 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، سُلَيْمَانُ ، رَجُلٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالُوا: اكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَكَفَأْتُهَا، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ؟، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِي، رَجُلٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: ذَلِكَ أَيْضًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے بتایا کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں اپنے قبیلے والوں اپنے چچاؤں کو ان کی (شراب) فضیخ پلا رہا تھا اور میں ہی ان میں سب سے کم سن تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ان) لوگوں نے کہا: انس! اس کو بہا دو۔ میں نے وہ سب بہا دی۔ (سلیمان تیمی نے) کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ کیا تھا (جس سے شراب بنائی گئی تھی؟) انہوں نے کہا: وہ کچی اور پکی کھجوریں تھیں (تیمی نے) کہا: ابوبکر بن انس نے کہا: ان دنوں یہی ان کی شراب تھی۔ سلیمان نے کہا: مجھے ایک شخص نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ خود انہوں نے (انس رضی اللہ عنہ) نے بھی یہی کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5133]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5133 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، سُلَيْمَانُ ، رَجُلٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالُوا: اكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَكَفَأْتُهَا، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ؟، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِي، رَجُلٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: ذَلِكَ أَيْضًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے بتایا کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں اپنے قبیلے والوں اپنے چچاؤں کو ان کی (شراب) فضیخ پلا رہا تھا اور میں ہی ان میں سب سے کم سن تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ان) لوگوں نے کہا: انس! اس کو بہا دو۔ میں نے وہ سب بہا دی۔ (سلیمان تیمی نے) کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ کیا تھا (جس سے شراب بنائی گئی تھی؟) انہوں نے کہا: وہ کچی اور پکی کھجوریں تھیں (تیمی نے) کہا: ابوبکر بن انس نے کہا: ان دنوں یہی ان کی شراب تھی۔ سلیمان نے کہا: مجھے ایک شخص نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ خود انہوں نے (انس رضی اللہ عنہ) نے بھی یہی کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5133]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1980 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَنَسٌ ، ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ، وقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر (بن سلیمان تیمی) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کھڑا ہوا قبیلے (کے لوگوں) کو شراب پلا رہا تھا، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انہوں نے (معتمر) نے کہا: ابوبکر بن انس نے بتایا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ (خود بھی) موجود تھے اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا۔ (سلیمان نے کہا:) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا: اس نے (خود) انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5134]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5134 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَنَسٌ ، ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ، وقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر (بن سلیمان تیمی) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کھڑا ہوا قبیلے (کے لوگوں) کو شراب پلا رہا تھا، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انہوں نے (معتمر) نے کہا: ابوبکر بن انس نے بتایا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ (خود بھی) موجود تھے اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا۔ (سلیمان نے کہا:) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا: اس نے (خود) انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5134]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1980 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ، فَقَالَ: حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَأَكْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، قَالَ قَتَادَةُ: وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں انصاری کی ایک جماعت میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شراب پلا رہا تھا، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا: شراب کی حرمت نازل ہو گئی ہے، (یہ سنتے ہی) ہم نے اسی دن اسے (شراب کو) بہا دیا، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی (بنی ہوئی) شراب تھی۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: شراب حرام کر دی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی، نیم پختہ اور خشک کھجور کی (بنی ہوئی) ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5135]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5135 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ، فَقَالَ: حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَأَكْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، قَالَ قَتَادَةُ: وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں انصاری کی ایک جماعت میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شراب پلا رہا تھا، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا: شراب کی حرمت نازل ہو گئی ہے، (یہ سنتے ہی) ہم نے اسی دن اسے (شراب کو) بہا دیا، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی (بنی ہوئی) شراب تھی۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: شراب حرام کر دی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی، نیم پختہ اور خشک کھجور کی (بنی ہوئی) ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5135]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1980 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّار ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّار ٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاء مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو ایک مشکیزے سے شراب پلا رہا تھا، ملی جلی نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی شراب تھی، جس طرح سعید (بن ابی عروبہ) کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5136]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5136 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّار ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّار ٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاء مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو ایک مشکیزے سے شراب پلا رہا تھا، ملی جلی نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی شراب تھی، جس طرح سعید (بن ابی عروبہ) کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5136]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة