بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی تعظیم کے لیے جانور ذبح کرے وہ ملعون ہے اور ذبیحہ حرام ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم قربانی کے احکام و مسائل باب: جو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی تعظیم کے لیے جانور ذبح کرے وہ ملعون ہے اور ذبیحہ حرام ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 1978 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، مَرْوَانَ ، زُهَيْرٌ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ كلاهما، عَنْ مَرْوَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا يَكْتُمُهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي بِكَلِمَاتٍ أَرْبَعٍ، قَالَ: فَقَالَ: مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا: ہمیں منصور بن حیان نے حدیث بیان کی کہا: ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہا: میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو رازداری سے کیا فرماتے تھے؟ آپ ناراض ہوئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کوئی راز نہیں بتایا جس کو اور لوگوں سے چھپایا ہو۔ البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فرمائی تھیں۔ اس نے پوچھا: امیر المومنین! وہ کیا باتیں ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے اور جس شخص نے زمین (کی حد بندی) کا نشان بدلا اس پر اللہ لعنت کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5124]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5124 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، مَرْوَانَ ، زُهَيْرٌ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ كلاهما، عَنْ مَرْوَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا يَكْتُمُهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي بِكَلِمَاتٍ أَرْبَعٍ، قَالَ: فَقَالَ: مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا: ہمیں منصور بن حیان نے حدیث بیان کی کہا: ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہا: میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو رازداری سے کیا فرماتے تھے؟ آپ ناراض ہوئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کوئی راز نہیں بتایا جس کو اور لوگوں سے چھپایا ہو۔ البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فرمائی تھیں۔ اس نے پوچھا: امیر المومنین! وہ کیا باتیں ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے اور جس شخص نے زمین (کی حد بندی) کا نشان بدلا اس پر اللہ لعنت کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5124]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1978 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ الْمَنَارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخالد احمر سلیمان بن حیان نے منصور بن حیان سے انہوں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا: ہم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے عرض کی، ہمیں کوئی ایسی چیز بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رازداری سے آپ کو بتائی ہو۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے رازداری سے کوئی بات نہیں بتائی جو لوگوں سے چھپائی ہو البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا اس پر اللہ لعنت کرے۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے (زمین کی حد بندی کا) نشان تبدیل کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5125]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5125 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ الْمَنَارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخالد احمر سلیمان بن حیان نے منصور بن حیان سے انہوں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا: ہم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے عرض کی، ہمیں کوئی ایسی چیز بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رازداری سے آپ کو بتائی ہو۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے رازداری سے کوئی بات نہیں بتائی جو لوگوں سے چھپائی ہو البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا اس پر اللہ لعنت کرے۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے (زمین کی حد بندی کا) نشان تبدیل کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5125]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1978 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ، كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: میں نے قاسم بن ابی بزہ کو ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصی طور پر کوئی چیز آپ کو عطا فرمائی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی چیز خاص ہمارے لیے نہیں بتائی جو آپ نے تمام لوگوں میں عام نہ کی ہو۔ البتہ میری اس تلوار کی نیام میں کچھ احکام ہیں۔ پھر آپ نے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا: جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص زمین کی (حد بندی کی) نشانی چھپائے اللہ اس پر لعنت کرے اور جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اللہ اس پر لعنت کرے، اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5126 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ، كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: میں نے قاسم بن ابی بزہ کو ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصی طور پر کوئی چیز آپ کو عطا فرمائی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی چیز خاص ہمارے لیے نہیں بتائی جو آپ نے تمام لوگوں میں عام نہ کی ہو۔ البتہ میری اس تلوار کی نیام میں کچھ احکام ہیں۔ پھر آپ نے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا: جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص زمین کی (حد بندی کی) نشانی چھپائے اللہ اس پر لعنت کرے اور جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اللہ اس پر لعنت کرے، اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة