مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، الشَّعْبِيُّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ، قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن مسروق نے کہا: شعبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نہرین (کے قصبے) میں ہمارے ہمسائے اور ہمارے پاس آنے جانے والے قریبی ساتھی تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میں شکار پر اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتا بھی دیکھتا ہوں کہ اس نے اس کو شکار کر لیا ہے۔ اور مجھے یہ نہیں پتہ کہ (اصل میں) ان دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تم (اس کو) مت کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4979]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة