بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سدہائے ہوئے کتوں سے شکار کرنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم شکار کرنے، ذبح کیے جانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جا سکتا ہے باب: سدہائے ہوئے کتوں سے شکار کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ، فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلْ "، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ، قَالَ: " وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا "، قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، فَقَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام بن حارث نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں۔ وہ میرے لیے شکار کو قابوکر لیتے ہیں۔ اور میں اس پر اللہ کا نام بھی لیتا ہوں (بسم اللہ پڑھتا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو پھر اس کو کھا لو۔ میں نے کہا: خواہ وہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خواہ وہ شکار کو مار ڈالیں، جب تک کوئی اور کتا، جو ان کے ساتھ نہیں (بھیجا گیا)، ان کے ساتھ شریک نہ ہو جائے۔ میں نے عرض کی: میں شکار کو موٹی لکڑی کے نوکدار بغیر پروں کے تیر کا نشانہ بناتا ہوں اور اسے مار لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بغیر پروں والا تیر مارو اور وہ اس کے جسم کو چھید دے (خون نکل جائے) تو اس کو کھا لو اور اگر وہ اسے چوڑائی کی طرف سے نشانہ بنائے اور مار ڈالے تو مت کھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4972]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4972 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ، فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلْ "، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ، قَالَ: " وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا "، قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، فَقَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام بن حارث نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں۔ وہ میرے لیے شکار کو قابوکر لیتے ہیں۔ اور میں اس پر اللہ کا نام بھی لیتا ہوں (بسم اللہ پڑھتا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو پھر اس کو کھا لو۔ میں نے کہا: خواہ وہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خواہ وہ شکار کو مار ڈالیں، جب تک کوئی اور کتا، جو ان کے ساتھ نہیں (بھیجا گیا)، ان کے ساتھ شریک نہ ہو جائے۔ میں نے عرض کی: میں شکار کو موٹی لکڑی کے نوکدار بغیر پروں کے تیر کا نشانہ بناتا ہوں اور اسے مار لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بغیر پروں والا تیر مارو اور وہ اس کے جسم کو چھید دے (خون نکل جائے) تو اس کو کھا لو اور اگر وہ اسے چوڑائی کی طرف سے نشانہ بنائے اور مار ڈالے تو مت کھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4972]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، بَيَانٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، وَإِنْ قَتَلْنَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بیان نے شعبی سے، انہوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو جو (شکار) وہ تمہارے لیے پکڑیں چاہے وہ اسے مار دیں، تم اسے کھا لو، الا یہ کہ کتا (اس میں سے) کچھ خود کھا لے۔ اگر وہ کھا لے تو تم نہ کھاؤ۔ کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس نے اپنے لیے (شکار) پکڑا ہوگا۔ اگر دوسرے کتے ان کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں تو مت کھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4973]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4973 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، بَيَانٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، وَإِنْ قَتَلْنَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بیان نے شعبی سے، انہوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو جو (شکار) وہ تمہارے لیے پکڑیں چاہے وہ اسے مار دیں، تم اسے کھا لو، الا یہ کہ کتا (اس میں سے) کچھ خود کھا لے۔ اگر وہ کھا لے تو تم نہ کھاؤ۔ کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس نے اپنے لیے (شکار) پکڑا ہوگا۔ اگر دوسرے کتے ان کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں تو مت کھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4973]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ "، وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ "، قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ، قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابن ابی سفر سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: جب اس نے اپنے (چھیدنے والے) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہو تو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر مار دیا ہو تو وہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا (شکار) ہے، اسے نہ کھاؤ۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتے کے (شکار پر) اپنا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو، اگر کتے نے اس (شکار) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ، کیونکہ کتے نے اس (شکار) کو اپنے لیے پکڑا ہے۔ میں نے کہا: اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: پھر تم نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4974]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4974 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ "، وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ "، قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ، قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابن ابی سفر سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: جب اس نے اپنے (چھیدنے والے) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہو تو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر مار دیا ہو تو وہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا (شکار) ہے، اسے نہ کھاؤ۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتے کے (شکار پر) اپنا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو، اگر کتے نے اس (شکار) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ، کیونکہ کتے نے اس (شکار) کو اپنے لیے پکڑا ہے۔ میں نے کہا: اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: پھر تم نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4974]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيَّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، يَقُولُ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے کہا: مجھے شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا، کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا، پھر اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4975]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4975 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيَّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، يَقُولُ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے کہا: مجھے شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا، کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا، پھر اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4975]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، شُعْبَةُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، وَعَنْ نَاسٍ ذَكَرَ شُعْبَةُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے، انہوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا، شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا، پھر اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4976]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4976 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، شُعْبَةُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، وَعَنْ نَاسٍ ذَكَرَ شُعْبَةُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے، انہوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا، شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا، پھر اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4976]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، زَكَرِيَّاءُ ، عَامِرٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ "، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ أَخْذُهُ فَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا آخَرَ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ، فَلَا تَأْكُلْ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں زکریا نے عامر (شعبی) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب لاٹھی کی لوہے والی طرف لگے تو کھا لے اور جب لکڑی والی طرف لگے اور مر جائے، تو وہ وقیذ ہے (یعنی موقوذہ ہے جو پتھر یا لکڑی سے مارا جائے اور وہ قرآن پاک میں حرام ہے) اس کو مت کھا۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنا کتا چھوڑے، تو کھا لے لیکن اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو مت کھا کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا۔ میں نے کہا کہ اگر میں اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے پکڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4977]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4977 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، زَكَرِيَّاءُ ، عَامِرٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ "، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ أَخْذُهُ فَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا آخَرَ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ، فَلَا تَأْكُلْ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں زکریا نے عامر (شعبی) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب لاٹھی کی لوہے والی طرف لگے تو کھا لے اور جب لکڑی والی طرف لگے اور مر جائے، تو وہ وقیذ ہے (یعنی موقوذہ ہے جو پتھر یا لکڑی سے مارا جائے اور وہ قرآن پاک میں حرام ہے) اس کو مت کھا۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنا کتا چھوڑے، تو کھا لے لیکن اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو مت کھا کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا۔ میں نے کہا کہ اگر میں اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے پکڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4977]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے کہا: ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4978]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4978 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے کہا: ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4978]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، الشَّعْبِيُّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ، قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن مسروق نے کہا: شعبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نہرین (کے قصبے) میں ہمارے ہمسائے اور ہمارے پاس آنے جانے والے قریبی ساتھی تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میں شکار پر اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتا بھی دیکھتا ہوں کہ اس نے اس کو شکار کر لیا ہے۔ اور مجھے یہ نہیں پتہ کہ (اصل میں) ان دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر تم (اس کو) مت کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4979]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4979 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، الشَّعْبِيُّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ، قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن مسروق نے کہا: شعبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نہرین (کے قصبے) میں ہمارے ہمسائے اور ہمارے پاس آنے جانے والے قریبی ساتھی تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میں شکار پر اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتا بھی دیکھتا ہوں کہ اس نے اس کو شکار کر لیا ہے۔ اور مجھے یہ نہیں پتہ کہ (اصل میں) ان دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر تم (اس کو) مت کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4979]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
مَحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حکم نے شعبی سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4980]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4980 صحیح مسلم
مَحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حکم نے شعبی سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4980]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1929 صحیح مسلم
الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَاصِمٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ وَقَدْ قَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ، وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلَّا أَثَرَ سَهْمِكَ، فَكُلْ إِنْ شِئْتَ وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے عاصم سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنا کتا (شکار پر) چھوڑو تو بسم اللہ پڑھو، اور اگر وہ تمہارے لیے شکار کو جکڑ لے اور تم اس (شکار) کو زندہ پاؤ تو اس کو ذبح کر دو، اور اگر تم شکار کو اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو اس کو بھی کھا لو، اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو پاؤ اور اس نے شکار کو مار ڈالا ہو، تو اس کو نہ کھاؤ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے ان دونوں میں سے کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم تیر مارو تو بسم اللہ پڑھو، پھر اگر ایک دن تک وہ (شکار) تمہیں نہ ملے (بعد میں ملے) اور تمہیں اس میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ملے تو تم چاہو تو اس کو کھا لو، اور اگر وہ تمہیں پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو مت کھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4981]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4981 صحیح مسلم
الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَاصِمٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ وَقَدْ قَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ، وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلَّا أَثَرَ سَهْمِكَ، فَكُلْ إِنْ شِئْتَ وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے عاصم سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنا کتا (شکار پر) چھوڑو تو بسم اللہ پڑھو، اور اگر وہ تمہارے لیے شکار کو جکڑ لے اور تم اس (شکار) کو زندہ پاؤ تو اس کو ذبح کر دو، اور اگر تم شکار کو اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو اس کو بھی کھا لو، اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو پاؤ اور اس نے شکار کو مار ڈالا ہو، تو اس کو نہ کھاؤ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے ان دونوں میں سے کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم تیر مارو تو بسم اللہ پڑھو، پھر اگر ایک دن تک وہ (شکار) تمہیں نہ ملے (بعد میں ملے) اور تمہیں اس میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ملے تو تم چاہو تو اس کو کھا لو، اور اگر وہ تمہیں پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو مت کھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 4981]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة