بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امارت کی درخواست اور حرص کرنا منع ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم امور حکومت کا بیان باب: امارت کی درخواست اور حرص کرنا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1652 صحیح مسلم
شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ: " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ أُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں حسن بصری نے اور انہیں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو طلب کرنے سے (امارت) ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے (اس کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھاؤ گے، اللہ کی مدد شامل نہ ہو گی) اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو (اللہ کی طرف سے) تمہاری اعانت ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4715]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4715 صحیح مسلم
شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ: " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ أُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں حسن بصری نے اور انہیں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو طلب کرنے سے (امارت) ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے (اس کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھاؤ گے، اللہ کی مدد شامل نہ ہو گی) اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو (اللہ کی طرف سے) تمہاری اعانت ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4715]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1652 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يُونُسَ ، عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، هُشَيْمٌ ، يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ كلهم، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس بن عبید، منصور، حمید اور ہشام بن حسان سب نے حسن بصری سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4716]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4716 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يُونُسَ ، عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، هُشَيْمٌ ، يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ كلهم، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس بن عبید، منصور، حمید اور ہشام بن حسان سب نے حسن بصری سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4716]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1733 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ: فَقَالَ: إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
برید بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور میرے چچا کے بیٹوں میں سے دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کی تولیت میں جو دیا اس کے کسی حصے پر ہمیں امیر بنا دیجیے۔ دوسرے نے بھی یہی کہا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمہ داری نہیں دیتے جو اس کو طلب کرے، نہ ایسے شخص کو بناتے ہیں جو اس کا خواہش مند ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4717]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4717 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ: فَقَالَ: إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
برید بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور میرے چچا کے بیٹوں میں سے دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کی تولیت میں جو دیا اس کے کسی حصے پر ہمیں امیر بنا دیجیے۔ دوسرے نے بھی یہی کہا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمہ داری نہیں دیتے جو اس کو طلب کرے، نہ ایسے شخص کو بناتے ہیں جو اس کا خواہش مند ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4717]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1733 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا، عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي، فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، فَقَالَ: " مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ؟، قَالَ: فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ وَقَدْ قَلَصَتْ، فَقَالَ: لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ، قَالَ: انْزِلْ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ، قَالَ: مَا هَذَا؟، قَالَ: هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا، فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ، فَتَهَوَّدَ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: اجْلِسْ نَعَمْ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ تَذَاكَرَا الْقِيَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذٌ: أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حمید بن ہلال نے کہا: مجھے ابوبردہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بنو اشعر میں سے دو آدمیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ایک میری دائیں جانب تھا اور دوسرا میری بائیں جانب۔ ان دونوں نے کسی منصب کا سوال کیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسواک کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: ابوموسیٰ! یا فرمایا: عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ان دونوں نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کے دل میں کیا ہے؟ اور نہ مجھے یہ پتہ تھا کہ یہ دونوں منصب کا سوال کریں گے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا لگتا ہے کہ میں (آج بھی) آپ کے ہونٹ کے نیچے مسواک دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ کا ہونٹ اوپر کو سمٹا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: جو شخص خواہش مند ہو گا ہم اسے اپنے کسی کام کی ذمہ داری ہرگز نہیں دیں گے۔ لیکن آپ نے فرمایا: ابوموسیٰ! یا عبداللہ بن قیس! تم (ذمہ داری سنبھالنے کے لیے) چلے جاؤ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں یمن بھیج دیا، پھر (ساتھ ہی) ان کے پیچھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تشریف لائیے اور ان کے بیٹھنے کے لیے ایک گدا بچھایا، تو وہاں اس وقت ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا، انہوں (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: یہ کون ہے؟ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ایک یہودی تھا، پھر یہ مسلمان ہو گیا اور اب پھر اپنے دین، برائی کے دین پر لوٹ گیا ہے اور یہودی ہو گیا ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے، یہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، (ہم اس کو قتل کرتے ہیں) آپ بیٹھیے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس شخص کو قتل نہیں کر دیا جاتا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ ہے، تین (مرتبہ یہی مکالمہ ہوا)۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، اس شخص کو قتل کر دیا گیا، پھر ان دونوں نے آپس میں رات کے قیام کے بارے میں گفتگو کی۔ دونوں میں سے ایک (یعنی) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک میرا معاملہ ہے، میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور میں اپنے قیام میں جس اجر کی امید رکھتا ہوں اپنی نیند میں بھی اسی (اجر) کی توقع رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4718]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4718 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا، عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي، فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، فَقَالَ: " مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ؟، قَالَ: فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ وَقَدْ قَلَصَتْ، فَقَالَ: لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ، قَالَ: انْزِلْ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ، قَالَ: مَا هَذَا؟، قَالَ: هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا، فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ، فَتَهَوَّدَ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: اجْلِسْ نَعَمْ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ تَذَاكَرَا الْقِيَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذٌ: أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حمید بن ہلال نے کہا: مجھے ابوبردہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بنو اشعر میں سے دو آدمیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ایک میری دائیں جانب تھا اور دوسرا میری بائیں جانب۔ ان دونوں نے کسی منصب کا سوال کیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسواک کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: ابوموسیٰ! یا فرمایا: عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ان دونوں نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کے دل میں کیا ہے؟ اور نہ مجھے یہ پتہ تھا کہ یہ دونوں منصب کا سوال کریں گے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا لگتا ہے کہ میں (آج بھی) آپ کے ہونٹ کے نیچے مسواک دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ کا ہونٹ اوپر کو سمٹا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: جو شخص خواہش مند ہو گا ہم اسے اپنے کسی کام کی ذمہ داری ہرگز نہیں دیں گے۔ لیکن آپ نے فرمایا: ابوموسیٰ! یا عبداللہ بن قیس! تم (ذمہ داری سنبھالنے کے لیے) چلے جاؤ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں یمن بھیج دیا، پھر (ساتھ ہی) ان کے پیچھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تشریف لائیے اور ان کے بیٹھنے کے لیے ایک گدا بچھایا، تو وہاں اس وقت ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا، انہوں (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: یہ کون ہے؟ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ایک یہودی تھا، پھر یہ مسلمان ہو گیا اور اب پھر اپنے دین، برائی کے دین پر لوٹ گیا ہے اور یہودی ہو گیا ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے، یہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، (ہم اس کو قتل کرتے ہیں) آپ بیٹھیے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس شخص کو قتل نہیں کر دیا جاتا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ ہے، تین (مرتبہ یہی مکالمہ ہوا)۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، اس شخص کو قتل کر دیا گیا، پھر ان دونوں نے آپس میں رات کے قیام کے بارے میں گفتگو کی۔ دونوں میں سے ایک (یعنی) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک میرا معاملہ ہے، میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور میں اپنے قیام میں جس اجر کی امید رکھتا ہوں اپنی نیند میں بھی اسی (اجر) کی توقع رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4718]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة