بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جب توشے کم ہوں تو سب توشے ملا دینا مستحب ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو باب: جب توشے کم ہوں تو سب توشے ملا دینا مستحب ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1729 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيَّ ، عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيَّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا، فَبَسَطْنَا لَهُ نِطَعًا فَاجْتَمَعَ زَادُ الْقَوْمِ عَلَى النِّطَعِ، قَالَ: فَتَطَاوَلْتُ لِأَحْزِرَهُ كَمْ هُوَ فَحَزَرْتُهُ كَرَبْضَةِ الْعَنْزِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ حَشَوْنَا جُرُبَنَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ مِنْ وَضُوءٍ؟، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بِإِدَاوَةٍ لَهُ فِيهَا نُطْفَةٌ، فَأَفْرَغَهَا، فِي قَدَحٍ فَتَوَضَّأْنَا كُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ، فَقَالُوا: هَلْ مِنْ طَهُورٍ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَرِغَ الْوَضُوءُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایاس بن سلمہ نے ہمیں اپنے والد حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، (راستے میں) تنگی (زاد راہ کی کمی) کا شکار ہو گئے حتی کہ ہم نے ارادہ کر لیا کہ اپنی بعض سواریاں ذبح کر لیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تو ہم نے اپنا زادراہ اکٹھا کر لیا۔ ہم نے اس کے لیے چمڑے کا دسترخوان بچھایا تو سب لوگوں کا زادراہ اس دسترخوان پر اکٹھا ہو گیا۔ کہا: میں نے نگاہ اٹھائی کہ اندازہ کر سکوں کہ وہ کتنا ہے؟ تو میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے بقدر تھا اور ہم چودہ سو آدمی تھے۔ کہا: تو ہم نے کھایا حتی کہ ہم سب سیر ہو گئے، پھر ہم نے اپنے (خوراک کے) تھیلے (بھی) بھر لیے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا وضو کے لیے پانی ہے؟ کہا: تو ایک آدمی اپنا ایک برتن لایا۔ اس میں تھوڑا سا پانی تھا، اس نے وہ ایک کھلے منہ والے پیالے میں انڈیلا تو ہم سب نے وضو کیا، ہم چودہ سو آدمی اسے کھلا استعمال کر رہے تھے۔ کہا: پھر اس کے بعد آٹھ افراد (اور) آئے، انہوں نے کہا: کیا وضو کے لیے پانی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وضو کا پانی ختم ہو چکا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4518]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4518 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيَّ ، عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيَّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا، فَبَسَطْنَا لَهُ نِطَعًا فَاجْتَمَعَ زَادُ الْقَوْمِ عَلَى النِّطَعِ، قَالَ: فَتَطَاوَلْتُ لِأَحْزِرَهُ كَمْ هُوَ فَحَزَرْتُهُ كَرَبْضَةِ الْعَنْزِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ حَشَوْنَا جُرُبَنَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ مِنْ وَضُوءٍ؟، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بِإِدَاوَةٍ لَهُ فِيهَا نُطْفَةٌ، فَأَفْرَغَهَا، فِي قَدَحٍ فَتَوَضَّأْنَا كُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ، فَقَالُوا: هَلْ مِنْ طَهُورٍ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَرِغَ الْوَضُوءُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایاس بن سلمہ نے ہمیں اپنے والد حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، (راستے میں) تنگی (زاد راہ کی کمی) کا شکار ہو گئے حتی کہ ہم نے ارادہ کر لیا کہ اپنی بعض سواریاں ذبح کر لیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تو ہم نے اپنا زادراہ اکٹھا کر لیا۔ ہم نے اس کے لیے چمڑے کا دسترخوان بچھایا تو سب لوگوں کا زادراہ اس دسترخوان پر اکٹھا ہو گیا۔ کہا: میں نے نگاہ اٹھائی کہ اندازہ کر سکوں کہ وہ کتنا ہے؟ تو میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے بقدر تھا اور ہم چودہ سو آدمی تھے۔ کہا: تو ہم نے کھایا حتی کہ ہم سب سیر ہو گئے، پھر ہم نے اپنے (خوراک کے) تھیلے (بھی) بھر لیے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا وضو کے لیے پانی ہے؟ کہا: تو ایک آدمی اپنا ایک برتن لایا۔ اس میں تھوڑا سا پانی تھا، اس نے وہ ایک کھلے منہ والے پیالے میں انڈیلا تو ہم سب نے وضو کیا، ہم چودہ سو آدمی اسے کھلا استعمال کر رہے تھے۔ کہا: پھر اس کے بعد آٹھ افراد (اور) آئے، انہوں نے کہا: کیا وضو کے لیے پانی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وضو کا پانی ختم ہو چکا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4518]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة