بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گمشدہ چیز کا اعلان کرنا اور بھٹکی ہوئی بکری اور اونٹ کے حکم کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو باب: گمشدہ چیز کا اعلان کرنا اور بھٹکی ہوئی بکری اور اونٹ کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1722 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، مَالِكٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟، قَالَ: لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟، قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا "، قَالَ يَحْيَي: أَحْسِبُ قَرَأْتُ عِفَاصَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی، انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ سے، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے (کسی کی) گری، بھولی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ڈھکنے/تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو) ورنہ اس کا جو چاہو کرو۔ اس نے کہا: گمشدہ بکری (کا کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔ اس نے پوچھا: تو گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس سے کیا تعلق ہے؟ اس کی مشک اور اس کا موزہ اس کے ساتھ ہے، وہ (خود ہی) پانی پر پہنچتا ہے اور درخت (کے پتے) کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے۔ (یحییٰ نے کہا: میرا خیال ہے میں نے عفاصہا پڑھا تھا۔ (بعض روایات میں وکاءہا (اس کا بندھن) ہے))۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4498]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4498 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، مَالِكٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟، قَالَ: لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟، قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا "، قَالَ يَحْيَي: أَحْسِبُ قَرَأْتُ عِفَاصَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی، انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ سے، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے (کسی کی) گری، بھولی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ڈھکنے/تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو) ورنہ اس کا جو چاہو کرو۔ اس نے کہا: گمشدہ بکری (کا کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔ اس نے پوچھا: تو گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس سے کیا تعلق ہے؟ اس کی مشک اور اس کا موزہ اس کے ساتھ ہے، وہ (خود ہی) پانی پر پہنچتا ہے اور درخت (کے پتے) کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے۔ (یحییٰ نے کہا: میرا خیال ہے میں نے عفاصہا پڑھا تھا۔ (بعض روایات میں وکاءہا (اس کا بندھن) ہے))۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4498]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1722 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ : " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟، قَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟، قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (کسی کی) گری پڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ایک سال اس کا اعلان کرو، پھر اس کے بندھن اور تھیلی وغیرہ کی شناخت رکھو، پھر اس سے خرچ کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ بکری؟ آپ نے فرمایا: اسے پکڑ لو، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ؟ کہا: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے۔۔ یا آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا۔ پھر فرمایا: تمہارا اس سے کیا تعلق؟ اس وقت تک کہ اس کا مالک اسے پا لے، اس کا موزہ اور اس کی مشک اس کے ساتھ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4499]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4499 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ : " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟، قَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟، قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (کسی کی) گری پڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ایک سال اس کا اعلان کرو، پھر اس کے بندھن اور تھیلی وغیرہ کی شناخت رکھو، پھر اس سے خرچ کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ بکری؟ آپ نے فرمایا: اسے پکڑ لو، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ؟ کہا: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے۔۔ یا آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا۔ پھر فرمایا: تمہارا اس سے کیا تعلق؟ اس وقت تک کہ اس کا مالک اسے پا لے، اس کا موزہ اور اس کی مشک اس کے ساتھ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4499]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1722 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِحَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، قَالَ: وَقَالَ عَمْرٌو: فِي الْحَدِيثِ " فَإِذَا لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے سفیان ثوری، مالک بن انس رحمہ اللہ، عمرو بن حارث اور دیگر لوگوں نے خبر دی کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ نے انہیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے یہ اضافہ کیا: کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو میں آپ کے ساتھ تھا، اس نے آپ سے کسی کی گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا۔ اور (ابن وہب نے) کہا: عمرو نے حدیث میں کہا: جب اسے تلاش کرنے والا کوئی نہ آئے تو اسے خرچ کر لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4500]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4500 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِحَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، قَالَ: وَقَالَ عَمْرٌو: فِي الْحَدِيثِ " فَإِذَا لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے سفیان ثوری، مالک بن انس رحمہ اللہ، عمرو بن حارث اور دیگر لوگوں نے خبر دی کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ نے انہیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے یہ اضافہ کیا: کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو میں آپ کے ساتھ تھا، اس نے آپ سے کسی کی گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا۔ اور (ابن وہب نے) کہا: عمرو نے حدیث میں کہا: جب اسے تلاش کرنے والا کوئی نہ آئے تو اسے خرچ کر لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4500]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1722 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ , يَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ وَجَبِينُهُ وَغَضِبَ " وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: " ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا كَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے مجھے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا۔۔ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی حدیث کی طرح بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: تو آپ کا چہرہ اور پیشانی سرخ ہو گئے اور آپ غصہ ہوئے۔ اور انہوں نے اس قول پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو۔ کے بعد۔۔ یہ اضافہ کیا: اگر اس کا مالک نہ آیا تو وہ تمہارے پاس امانت ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4501]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4501 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ , يَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ وَجَبِينُهُ وَغَضِبَ " وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: " ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا كَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے مجھے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا۔۔ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی حدیث کی طرح بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: تو آپ کا چہرہ اور پیشانی سرخ ہو گئے اور آپ غصہ ہوئے۔ اور انہوں نے اس قول پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو۔ کے بعد۔۔ یہ اضافہ کیا: اگر اس کا مالک نہ آیا تو وہ تمہارے پاس امانت ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4501]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1722 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ، فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا دَعْهَا، فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ، فَقَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی کے گرے یا بھولے ہوئے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور (باندھنے کی) رسی کی شناخت کر لو، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر (کچھ بھی) نہ جان پاؤ تو اسے خرچ کر لو اور وہ تمہارے پاس امانت ہو گی، اگر کسی بھی دن اس کا طلب کرنے والا آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو۔ اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ اس کا جوتا اور مشک اس کے ساتھ ہے، وہ مالک کے پا لینے تک (خود ہی) پانی پر آتا اور درخت کھاتا ہے۔ اس نے آپ سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لو، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4502]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4502 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ، فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا دَعْهَا، فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ، فَقَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی کے گرے یا بھولے ہوئے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور (باندھنے کی) رسی کی شناخت کر لو، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر (کچھ بھی) نہ جان پاؤ تو اسے خرچ کر لو اور وہ تمہارے پاس امانت ہو گی، اگر کسی بھی دن اس کا طلب کرنے والا آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو۔ اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ اس کا جوتا اور مشک اس کے ساتھ ہے، وہ مالک کے پا لینے تک (خود ہی) پانی پر آتا اور درخت کھاتا ہے۔ اس نے آپ سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لو، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4502]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1722 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ ابْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ ابْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ : " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ زَادَ رَبِيعَةُ " فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ "، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ " فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن مسلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے یحییٰ بن سعید اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا۔ (اس روایت میں) ربیعہ نے اضافہ کیا: تو آپ غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہو گئے۔۔ اور انہوں نے انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور (آخر میں) یہ اضافہ کیا: اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی، (اندر جو تھا اس کی) تعداد اور اس کے بندھن کو جانتا ہو تو اسے دے دو ورنہ وہ تمہاری ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4503]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4503 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ ابْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ ابْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ : " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ زَادَ رَبِيعَةُ " فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ "، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ " فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن مسلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے یحییٰ بن سعید اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا۔ (اس روایت میں) ربیعہ نے اضافہ کیا: تو آپ غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہو گئے۔۔ اور انہوں نے انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور (آخر میں) یہ اضافہ کیا: اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی، (اندر جو تھا اس کی) تعداد اور اس کے بندھن کو جانتا ہو تو اسے دے دو ورنہ وہ تمہاری ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4503]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1722 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ، فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے ضحاک بن عثمان نے ابونضر سے حدیث بیان کی، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (کسی کی) گری اور بھولی ہوئی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر اس کی شناخت نہ ہو پائے (کوئی اسے اپنی چیز کی حیثیت سے نہ پہچان سکے) تو اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو، پھر اسے کھاؤ (استعمال کرو)، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4504]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4504 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ، فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے ضحاک بن عثمان نے ابونضر سے حدیث بیان کی، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (کسی کی) گری اور بھولی ہوئی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر اس کی شناخت نہ ہو پائے (کوئی اسے اپنی چیز کی حیثیت سے نہ پہچان سکے) تو اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو، پھر اسے کھاؤ (استعمال کرو)، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4504]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1722 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر حنفی نے ضحاک بن عثمان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا: اگر اسے پہچان لیا جائے تو ادا کر دو ورنہ اس کی تھیلی، بندھن، (جس) برتن (میں بند تھی) اور تعداد کی پہچان (محفوظ) رکھو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4505]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4505 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر حنفی نے ضحاک بن عثمان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا: اگر اسے پہچان لیا جائے تو ادا کر دو ورنہ اس کی تھیلی، بندھن، (جس) برتن (میں بند تھی) اور تعداد کی پہچان (محفوظ) رکھو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4505]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1723 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ " قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالا لِي: دَعْهُ، فَقُلْتُ: لَا وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، قَالَ: فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، قَالَ: فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا "، فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا، فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے سوید بن غفلہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ جہاد کے لیے نکلے، مجھے ایک کوڑا ملا تو میں نے اسے اٹھا لیا، ان دونوں نے مجھ سے کہا: اسے رہنے دو۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کا مالک آ گیا (تو اسے دے دوں گا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ کہا: میں نے ان دونوں (کی بات ماننے) سے انکار کر دیا۔ جب ہم اپنی جنگ سے واپس ہوئے (تو) میرے مقدور میں ہوا کہ میں نے حج کرنا ہے، چنانچہ میں مدینہ آیا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور انہیں کوڑے کے واقعے اور ان دونوں کی باتوں سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں مجھے ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: سال بھر اس کی تشہیر کرو۔ میں نے (دوسرا سال) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ایک سال اس کی تشہیر کرو۔ میں نے (پھر سال بھر) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ایک سال اس کی تشہیر کرو۔ میں نے اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا۔ تو آپ نے فرمایا: اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو یاد رکھنا، اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دینا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لینا۔ پھر میں نے اسے استعمال کیا۔ (شعبہ نے کہا:) اس کے بعد میں انہیں (سلمہ بن کہیل کو) مکہ میں ملا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں (حضرت اُبی رضی اللہ عنہ نے) تین سال (تشہیر کی) یا ایک سال۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4506]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4506 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ " قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالا لِي: دَعْهُ، فَقُلْتُ: لَا وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، قَالَ: فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، قَالَ: فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا "، فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا، فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے سوید بن غفلہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ جہاد کے لیے نکلے، مجھے ایک کوڑا ملا تو میں نے اسے اٹھا لیا، ان دونوں نے مجھ سے کہا: اسے رہنے دو۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کا مالک آ گیا (تو اسے دے دوں گا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ کہا: میں نے ان دونوں (کی بات ماننے) سے انکار کر دیا۔ جب ہم اپنی جنگ سے واپس ہوئے (تو) میرے مقدور میں ہوا کہ میں نے حج کرنا ہے، چنانچہ میں مدینہ آیا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور انہیں کوڑے کے واقعے اور ان دونوں کی باتوں سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں مجھے ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: سال بھر اس کی تشہیر کرو۔ میں نے (دوسرا سال) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ایک سال اس کی تشہیر کرو۔ میں نے (پھر سال بھر) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ایک سال اس کی تشہیر کرو۔ میں نے اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا۔ تو آپ نے فرمایا: اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو یاد رکھنا، اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دینا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لینا۔ پھر میں نے اسے استعمال کیا۔ (شعبہ نے کہا:) اس کے بعد میں انہیں (سلمہ بن کہیل کو) مکہ میں ملا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں (حضرت اُبی رضی اللہ عنہ نے) تین سال (تشہیر کی) یا ایک سال۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4506]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1723 صحیح مسلم
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ " فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا "، قَالَ شُعْبَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ: عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بہز نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے سلمہ بن کہیل نے خبر دی یا انہوں نے کچھ لوگوں کو خبر دی اور میں بھی ان میں (شامل) تھا، انہوں نے کہا: میں نے سوید بن غفلہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ (سفر پر) نکلا، مجھے ایک کوڑا ملا۔۔ انہوں نے اسی (سابقہ روایت) کے مانند اس قول تک حدیث بیان کی: پھر میں نے اسے استعمال کیا۔ شعبہ نے کہا: میں نے دس سال بعد ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انہوں نے ایک سال اس کی تشہیر کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4507]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4507 صحیح مسلم
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ " فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا "، قَالَ شُعْبَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ: عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بہز نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے سلمہ بن کہیل نے خبر دی یا انہوں نے کچھ لوگوں کو خبر دی اور میں بھی ان میں (شامل) تھا، انہوں نے کہا: میں نے سوید بن غفلہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ (سفر پر) نکلا، مجھے ایک کوڑا ملا۔۔ انہوں نے اسی (سابقہ روایت) کے مانند اس قول تک حدیث بیان کی: پھر میں نے اسے استعمال کیا۔ شعبہ نے کہا: میں نے دس سال بعد ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انہوں نے ایک سال اس کی تشہیر کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 4507]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة