مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، رَجُلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قُرَّةُ ، حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَسَمَّى الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ "، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ وَأَعْرَاضَكُمْ، وَلَا يَذْكُرُ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ وَمَا بَعْدَهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے کہا: ہمیں قرہ بن خالد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں محمد بن سیرین نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور ایک اور آدمی سے، جو میرے خیال میں عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے افضل ہے، حدیث بیان کی، نیز ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے کہا: ہمیں قرہ نے یحییٰ بن سعید کی (مذکورہ) سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔۔ اور انہوں (ابوعامر) نے اس آدمی کا نام حمید بن عبدالرحمان بتایا (یہ بصرہ کے فقیہ ترین راوی ہیں)۔۔ انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“۔۔ اور انہوں (قرہ) نے ابن عون کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے ”عزت و ناموس“ کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے“ اور اس کے بعد والا حصہ بیان کیا۔ انہوں نے (اپنی) حدیث میں کہا: ”جیسے تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے میں تمہارا یہ دن اس وقت تک قابل احترام ہے جب تم اپنے رب سے ملو گے۔ سنو! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہنا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ/حدیث: 4386]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة