بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس کے پاس کوئی شے قابل وصیت کے نہ ہو اس کو وصیت نہ کرنا درست ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم وصیت کے احکام و مسائل باب: جس کے پاس کوئی شے قابل وصیت کے نہ ہو اس کو وصیت نہ کرنا درست ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 1634 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، قَالَ: " سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: لَا، قُلْتُ: فَلِمَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ أَوْ فَلِمَ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ؟، قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں مالک بن مغول سے خبر دی اور انہوں نے طلحہ بن مصرف سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصیت کی؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ میں نے پوچھا: تو مسلمانوں پر وصیت کرنا کیوں فرض کیا گیا ہے یا انہیں وصیت کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ترکے کو تقسیم کرنے کی وصیت نہیں کی بلکہ) اللہ تعالیٰ کی کتاب (کو اپنانے، عمل کرنے) کی وصیت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4227]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4227 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، قَالَ: " سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: لَا، قُلْتُ: فَلِمَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ أَوْ فَلِمَ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ؟، قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں مالک بن مغول سے خبر دی اور انہوں نے طلحہ بن مصرف سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصیت کی؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ میں نے پوچھا: تو مسلمانوں پر وصیت کرنا کیوں فرض کیا گیا ہے یا انہیں وصیت کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ترکے کو تقسیم کرنے کی وصیت نہیں کی بلکہ) اللہ تعالیٰ کی کتاب (کو اپنانے، عمل کرنے) کی وصیت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4227]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1634 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قُلْتُ: فَكَيْفَ أُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِيَّةِ؟، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع اور ابن نمیر دونوں نے مالک بن مغول سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی، البتہ وکیع کی حدیث میں ہے: میں نے پوچھا: تو لوگوں کو وصیت کا کیسے حکم دیا گیا ہے؟ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے: میں نے پوچھا: مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4228]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4228 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قُلْتُ: فَكَيْفَ أُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِيَّةِ؟، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع اور ابن نمیر دونوں نے مالک بن مغول سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی، البتہ وکیع کی حدیث میں ہے: میں نے پوچھا: تو لوگوں کو وصیت کا کیسے حکم دیا گیا ہے؟ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے: میں نے پوچھا: مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4228]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1635 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ . ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ دونوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابووائل سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ کوئی دینار ترکہ میں چھوڑا نہ درہم، نہ کوئی بکری، نہ اونٹ اور نہ ہی آپ نے (اس طرح کی) کسی چیز کے بارے میں وصیت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4229]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4229 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ . ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ دونوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابووائل سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ کوئی دینار ترکہ میں چھوڑا نہ درہم، نہ کوئی بکری، نہ اونٹ اور نہ ہی آپ نے (اس طرح کی) کسی چیز کے بارے میں وصیت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4229]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1635 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ جَمِيعًا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4230]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4230 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ جَمِيعًا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4230]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1636 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، ابْنِ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: " ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ: مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي، أَوْ قَالَتْ حَجْرِي؟، فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسود بن یزید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی (جسے وصیت کی جائے) تھے۔ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کب وصیت کی؟ بلاشبہ آپ کو اپنے سینے سے۔۔ یا کہا: اپنی گود سے۔۔ سہارا دینے والی میں تھی، آپ نے برتن منگوایا، اس کے بعد آپ (کمزوری سے) میری گود ہی میں جھک گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی، تو آپ نے انہیں کب وصیت کی؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4231]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4231 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، ابْنِ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: " ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ: مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي، أَوْ قَالَتْ حَجْرِي؟، فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسود بن یزید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی (جسے وصیت کی جائے) تھے۔ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کب وصیت کی؟ بلاشبہ آپ کو اپنے سینے سے۔۔ یا کہا: اپنی گود سے۔۔ سہارا دینے والی میں تھی، آپ نے برتن منگوایا، اس کے بعد آپ (کمزوری سے) میری گود ہی میں جھک گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی، تو آپ نے انہیں کب وصیت کی؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4231]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1637 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟، قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدِي، فَتَنَازَعُوا وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، وَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ؟، قَالَ: دَعُونِي، فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ أُوصِيكُمْ بِثَلَاثٍ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ، قَالَ: وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَأُنْسِيتُهَا "، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ سعید کے ہیں۔۔ سب نے کہا: ہمیں سفیان نے سلیمان احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جمعرات کا دن، اور جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں نے سنگریزوں کو تر کر دیا۔ میں نے کہا: ابوعباس! جمعرات کا دن کیا تھا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس (لکھنے کا سامان) لاؤ، میں تمہیں ایک کتاب (تحریر) لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو۔ تو لوگ جھگڑ پڑے، اور کسی بھی نبی کے پاس جھگڑنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا: آپ کا کیا حال ہے؟ کیا آپ نے بیماری کے زیر اثر گفتگو کی ہے؟ آپ ہی سے اس کا مفہوم پوچھو! آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے۔ میں تمہیں تین چیزوں کی وصیت کرتا ہوں: مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور آنے والے وفود کو اسی طرح عطیے دینا جس طرح میں انہیں دیا کرتا تھا۔ (سلیمان احول نے) کہا: وہ (سعید بن جبیر) تیسری بات کہنے سے خاموش ہو گئے یا انہوں نے کہی اور میں اسے بھول گیا۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا: ہمیں حسن بن بشر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4232]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4232 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟، قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدِي، فَتَنَازَعُوا وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، وَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ؟، قَالَ: دَعُونِي، فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ أُوصِيكُمْ بِثَلَاثٍ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ، قَالَ: وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَأُنْسِيتُهَا "، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ سعید کے ہیں۔۔ سب نے کہا: ہمیں سفیان نے سلیمان احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جمعرات کا دن، اور جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں نے سنگریزوں کو تر کر دیا۔ میں نے کہا: ابوعباس! جمعرات کا دن کیا تھا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس (لکھنے کا سامان) لاؤ، میں تمہیں ایک کتاب (تحریر) لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو۔ تو لوگ جھگڑ پڑے، اور کسی بھی نبی کے پاس جھگڑنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا: آپ کا کیا حال ہے؟ کیا آپ نے بیماری کے زیر اثر گفتگو کی ہے؟ آپ ہی سے اس کا مفہوم پوچھو! آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے۔ میں تمہیں تین چیزوں کی وصیت کرتا ہوں: مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور آنے والے وفود کو اسی طرح عطیے دینا جس طرح میں انہیں دیا کرتا تھا۔ (سلیمان احول نے) کہا: وہ (سعید بن جبیر) تیسری بات کہنے سے خاموش ہو گئے یا انہوں نے کہی اور میں اسے بھول گیا۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا: ہمیں حسن بن بشر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4232]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1637 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ، ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ حَتَّى رَأَيْتُ عَلَى خَدَّيْهِ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ، أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا، فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
طلحہ بن مصرف نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جمعرات کا دن، جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر ان کے آنسو بہنے لگے حتیٰ کہ میں نے ان کے دونوں رخساروں پر دیکھا گویا موتیوں کی لڑی ہو، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس شانے کی ہڈی اور دوات لاؤ۔۔ یا تختی اور دوات۔۔ میں تمہیں ایک کتاب (تحریر) لکھ دوں، اس کے بعد تم ہرگز کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ تو لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیماری کے زیر اثر گفتگو فرما رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4233]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4233 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ، ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ حَتَّى رَأَيْتُ عَلَى خَدَّيْهِ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ، أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا، فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
طلحہ بن مصرف نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جمعرات کا دن، جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر ان کے آنسو بہنے لگے حتیٰ کہ میں نے ان کے دونوں رخساروں پر دیکھا گویا موتیوں کی لڑی ہو، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس شانے کی ہڈی اور دوات لاؤ۔۔ یا تختی اور دوات۔۔ میں تمہیں ایک کتاب (تحریر) لکھ دوں، اس کے بعد تم ہرگز کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ تو لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیماری کے زیر اثر گفتگو فرما رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4233]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1637 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا "، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا، گھر میں کچھ آدمی موجود تھے، ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس آؤ، میں تمہیں ایک کتاب (تحریر) لکھ دوں، اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تکلیف اور درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے، ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اس پر گھر کے افراد نے اختلاف کیا اور جھگڑ پڑے، ان میں سے کچھ کہہ رہے تھے: (لکھنے کا سامان) قریب لاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں کتاب لکھ دیں تاکہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اور ان میں سے کچھ وہی کہہ رہے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس زیادہ شور اور اختلاف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اٹھ جاؤ۔ عبیداللہ نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: یقیناً مصیبت تھی بڑی مصیبت جو ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے وہ تحریر لکھنے کے درمیان حائل ہو گئی (کہ آپ کتابت نہ کرا سکے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4234]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4234 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا "، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا، گھر میں کچھ آدمی موجود تھے، ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس آؤ، میں تمہیں ایک کتاب (تحریر) لکھ دوں، اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تکلیف اور درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے، ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اس پر گھر کے افراد نے اختلاف کیا اور جھگڑ پڑے، ان میں سے کچھ کہہ رہے تھے: (لکھنے کا سامان) قریب لاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں کتاب لکھ دیں تاکہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اور ان میں سے کچھ وہی کہہ رہے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس زیادہ شور اور اختلاف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اٹھ جاؤ۔ عبیداللہ نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: یقیناً مصیبت تھی بڑی مصیبت جو ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے وہ تحریر لکھنے کے درمیان حائل ہو گئی (کہ آپ کتابت نہ کرا سکے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4234]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة