بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ظلم کرنا اور دوسرے کی زمین چھیننا حرام ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا باب: ظلم کرنا اور دوسرے کی زمین چھیننا حرام ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1610 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عباس بن سہل بن سعد ساعدی نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے زمین کی ایک بالشت (بھی) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں سے اس کا طوق (بنا کر) پہنائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4132]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4132 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عباس بن سہل بن سعد ساعدی نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے زمین کی ایک بالشت (بھی) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں سے اس کا طوق (بنا کر) پہنائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4132]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1610 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبَاهُ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنَّ أَرْوَى خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ فَقَالَ: دَعُوهَا وَإِيَّاهَا فَإِنِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ، طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا، قَالَ: فَرَأَيْتُهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ، تَقُولُ: أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي الدَّارِ مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ، فَوَقَعَتْ فِيهَا فَكَانَتْ قَبْرَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمر بن محمد کے والد (محمد بن زید) نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ارویٰ نے ان کے ساتھ گھر کے کسی حصے کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا: اسے اور گھر کو چھوڑ دو، (جو چاہے کرتی رہے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے: جس نے حق کے بغیر ایک بالشت زمین بھی حاصل کی، قیامت کے دن وہ سات زمینوں (تک) اس کی گردن کا طوق بنا دی جائے گی۔ (پھر اس کی ایذا رسانی سے تنگ آ کر انہوں نے دعا کی:) اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کے گھر ہی میں اس کی قبر بنا دے۔ (محمد بن زید نے) کہا: میں نے اس عورت کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھی، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی: مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے۔ ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھی، گھر میں کنویں کے پاس سے گزری تو اس میں گر گئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4133]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4133 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبَاهُ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنَّ أَرْوَى خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ فَقَالَ: دَعُوهَا وَإِيَّاهَا فَإِنِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ، طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا، قَالَ: فَرَأَيْتُهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ، تَقُولُ: أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي الدَّارِ مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ، فَوَقَعَتْ فِيهَا فَكَانَتْ قَبْرَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمر بن محمد کے والد (محمد بن زید) نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ارویٰ نے ان کے ساتھ گھر کے کسی حصے کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا: اسے اور گھر کو چھوڑ دو، (جو چاہے کرتی رہے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے: جس نے حق کے بغیر ایک بالشت زمین بھی حاصل کی، قیامت کے دن وہ سات زمینوں (تک) اس کی گردن کا طوق بنا دی جائے گی۔ (پھر اس کی ایذا رسانی سے تنگ آ کر انہوں نے دعا کی:) اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کے گھر ہی میں اس کی قبر بنا دے۔ (محمد بن زید نے) کہا: میں نے اس عورت کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھی، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی: مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے۔ ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھی، گھر میں کنویں کے پاس سے گزری تو اس میں گر گئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4133]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1610 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، سَعِيدٌ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالَ سَعِيدٌ : أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا، قَالَ: فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا، ثُمَّ بَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ارویٰ بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور مروان بن حکم کے پاس مقدمہ لے کر گئی تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں اس بات کے بعد بھی اس کی زمین کے کسی حصے پر قبضہ کر سکتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی؟ اس (مروان) نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا سنا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جس نے (عام یا کسی کی) زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم سے حاصل کی اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔ تو مروان نے ان سے کہا: اس کے بعد میں آپ سے کسی شہادت کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد انہوں (سعید) نے کہا: اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اسے اس کی زمین ہی میں ہلاک کر دے۔ (عروہ نے) کہا: وہ (اس وقت تک) نہ مری یہاں تک کہ اس کی بینائی ختم ہو گئی، پھر ایک مرتبہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں جا گری اور مر گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4134]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4134 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، سَعِيدٌ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالَ سَعِيدٌ : أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا، قَالَ: فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا، ثُمَّ بَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ارویٰ بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور مروان بن حکم کے پاس مقدمہ لے کر گئی تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں اس بات کے بعد بھی اس کی زمین کے کسی حصے پر قبضہ کر سکتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی؟ اس (مروان) نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا سنا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جس نے (عام یا کسی کی) زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم سے حاصل کی اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔ تو مروان نے ان سے کہا: اس کے بعد میں آپ سے کسی شہادت کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد انہوں (سعید) نے کہا: اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اسے اس کی زمین ہی میں ہلاک کر دے۔ (عروہ نے) کہا: وہ (اس وقت تک) نہ مری یہاں تک کہ اس کی بینائی ختم ہو گئی، پھر ایک مرتبہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں جا گری اور مر گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4134]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1610 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جس نے زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم کرتے ہوئے حاصل کی قیامت کے دن اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4135]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4135 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جس نے زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم کرتے ہوئے حاصل کی قیامت کے دن اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4135]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1611 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ، إِلَّا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص حق کے بغیر زمین کی ایک بالشت (بھی) حاصل نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4136]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4136 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ، إِلَّا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص حق کے بغیر زمین کی ایک بالشت (بھی) حاصل نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4136]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1612 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ ، يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ : أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ " وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حرب بن شداد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے محمد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: ابوسلمہ! زمین سے کنارہ کش ہو جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے ایک بالشت برابر زمین پر بھی ظلم سے قبضہ کیا، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4137]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4137 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ ، يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ : أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ " وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حرب بن شداد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے محمد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: ابوسلمہ! زمین سے کنارہ کش ہو جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے ایک بالشت برابر زمین پر بھی ظلم سے قبضہ کیا، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4137]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1612 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی کہ انہیں محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4138 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی کہ انہیں محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة