بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اونٹ کا بیچنا اور سواری کی شرط کر لینا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا باب: اونٹ کا بیچنا اور سواری کی شرط کر لینا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، زَكَرِيَّاءُ ، عَامِرٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، قَالَ: بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ، قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي، فَقَالَ: أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ، خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے عامر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا، انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ اسے چھوڑ دیں، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے آ کر ملے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اور اسے (ہلکی سی) ضرب لگائی تو وہ اس طرح چلنے لگا جس طرح (پہلے) کبھی نہ چلا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: اسے میرے پاس فروخت کر دو۔ تو میں نے اسے ایک اوقیہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس فروخت کر دیا اور اپنے گھر تک اس پر سواری کرنے کو مستثنیٰ کر لیا۔ جب میں (مدینہ) پہنچا (تو) اونٹ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس کی نقد قیمت ادا فرما دی، پھر میں واپس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے پیچھے پیغام بھیجا اور فرمایا: کیا تم میرے بارے میں سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارا اونٹ لینے کے لیے تم سے کم قیمت پر سودا کرنے کی کوشش کی؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی، وہ (سب) تمہارا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4098]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4098 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، زَكَرِيَّاءُ ، عَامِرٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، قَالَ: بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ، قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي، فَقَالَ: أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ، خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے عامر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا، انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ اسے چھوڑ دیں، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے آ کر ملے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اور اسے (ہلکی سی) ضرب لگائی تو وہ اس طرح چلنے لگا جس طرح (پہلے) کبھی نہ چلا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: اسے میرے پاس فروخت کر دو۔ تو میں نے اسے ایک اوقیہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس فروخت کر دیا اور اپنے گھر تک اس پر سواری کرنے کو مستثنیٰ کر لیا۔ جب میں (مدینہ) پہنچا (تو) اونٹ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس کی نقد قیمت ادا فرما دی، پھر میں واپس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے پیچھے پیغام بھیجا اور فرمایا: کیا تم میرے بارے میں سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارا اونٹ لینے کے لیے تم سے کم قیمت پر سودا کرنے کی کوشش کی؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی، وہ (سب) تمہارا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4098]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، زَكَرِيَّاءَ ، عَامِرٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں زکریا سے خبر دی، انہوں نے عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی۔۔ ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4099]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4099 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، زَكَرِيَّاءَ ، عَامِرٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں زکریا سے خبر دی، انہوں نے عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی۔۔ ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4099]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: مَا لِبَعِيرِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَلِيلٌ، قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ؟، قَالَ: قُلْتُ: بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ، قَالَ: أَفَتَبِيعُنِيهِ؟ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَرُوسٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ: وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ: مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟، فَقُلْتُ لَهُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا، قَالَ: أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا؟، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مغیرہ نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں غزوہ لڑا، آپ پیچھے سے آ کر مجھے ملے جبکہ میں اپنے پانی ڈھونے والے اونٹ پر تھا جو تھک چکا تھا اور چل نہ پاتا تھا۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: بیمار ہے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیچھے ہوئے، اسے دوڑایا اور اس کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد وہ مسلسل سب اونٹوں سے آگے چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنے اونٹ کو کیسا پا رہے ہو؟ میں نے عرض کی: بہت بہتر ہے، اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی برکت حاصل ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے وہ فروخت کرو گے؟ اس پر میں نے حیاء محسوس کی (کہ ایسا اونٹ جسے میں راہ ہی میں چھوڑ دینے کا ارادہ کر چکا تھا اور جو محض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے ٹھیک ہوا، اس کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قیمت لوں۔) اور ہمارے پاس اس کے سوا پانی لانے والا اور اونٹ بھی نہ تھا (اس لیے بھی میں تردد کا شکار ہوا۔) کہا: پھر میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ میں نے آپ کو وہ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس کی پشت کی ہڈی (پر سواری) میری ہو گی۔ کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نیا نیا دلہا ہوں، میں نے آپ سے (تیزی سے گھر جانے کی) اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں لوگوں سے آگے مدینہ کی طرف چل پڑا حتیٰ کہ میں پہنچ گیا، مجھے میرے ماموں نے ملے اور انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا، میں نے جو کیا تھا انہیں بتا دیا تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ کہا: جب میں نے (گھر جانے کی) اجازت مانگی تھی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تھا: تم نے کس سے شادی کی: باکرہ سے یا دوہاجو سے؟ میں نے عرض کی: میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے باکرہ سے کیوں شادی نہ کی، تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد فوت۔۔ یا شہید۔۔ ہو گئے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے اور نہ ان کی نگہداشت کر پائے، اس لیے میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگہداشت کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ تشریف لائے، (تو) میں صبح کے وقت آپ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی اور وہ (اونٹ) بھی مجھے واپس کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4100]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4100 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: مَا لِبَعِيرِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَلِيلٌ، قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ؟، قَالَ: قُلْتُ: بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ، قَالَ: أَفَتَبِيعُنِيهِ؟ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَرُوسٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ: وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ: مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟، فَقُلْتُ لَهُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا، قَالَ: أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا؟، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مغیرہ نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں غزوہ لڑا، آپ پیچھے سے آ کر مجھے ملے جبکہ میں اپنے پانی ڈھونے والے اونٹ پر تھا جو تھک چکا تھا اور چل نہ پاتا تھا۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: بیمار ہے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیچھے ہوئے، اسے دوڑایا اور اس کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد وہ مسلسل سب اونٹوں سے آگے چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنے اونٹ کو کیسا پا رہے ہو؟ میں نے عرض کی: بہت بہتر ہے، اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی برکت حاصل ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے وہ فروخت کرو گے؟ اس پر میں نے حیاء محسوس کی (کہ ایسا اونٹ جسے میں راہ ہی میں چھوڑ دینے کا ارادہ کر چکا تھا اور جو محض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے ٹھیک ہوا، اس کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قیمت لوں۔) اور ہمارے پاس اس کے سوا پانی لانے والا اور اونٹ بھی نہ تھا (اس لیے بھی میں تردد کا شکار ہوا۔) کہا: پھر میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ میں نے آپ کو وہ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس کی پشت کی ہڈی (پر سواری) میری ہو گی۔ کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نیا نیا دلہا ہوں، میں نے آپ سے (تیزی سے گھر جانے کی) اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں لوگوں سے آگے مدینہ کی طرف چل پڑا حتیٰ کہ میں پہنچ گیا، مجھے میرے ماموں نے ملے اور انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا، میں نے جو کیا تھا انہیں بتا دیا تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ کہا: جب میں نے (گھر جانے کی) اجازت مانگی تھی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تھا: تم نے کس سے شادی کی: باکرہ سے یا دوہاجو سے؟ میں نے عرض کی: میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے باکرہ سے کیوں شادی نہ کی، تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد فوت۔۔ یا شہید۔۔ ہو گئے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے اور نہ ان کی نگہداشت کر پائے، اس لیے میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگہداشت کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ تشریف لائے، (تو) میں صبح کے وقت آپ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی اور وہ (اونٹ) بھی مجھے واپس کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4100]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن ابی جعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں مکہ (کی جانب) سے مدینہ آئے، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا۔۔۔ اور انہوں نے (ان سے) مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کر دو۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ (ویسے ہی) آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ مجھے فروخت کر دو۔ میں نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ میں نے کہا: ایک آدمی کا میرے ذمے سونے کا ایک اوقیہ (تقریبا 29 گرام) ہے، اس کے عوض یہ آپ کا ہوا۔ آپ نے فرمایا: میں نے لے لیا، تم اس پر مدینہ تک پہنچ جاؤ۔ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: انہیں ایک اوقیہ سونا اور کچھ زیادہ بھی دو۔ کہا: انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زائد دیا۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ زائد عطیہ مجھ سے کبھی الگ نہ ہو گا۔ کہا: تو وہ میری تھیلی میں رہا حتیٰ کہ حرہ کی جنگ کے دن اہل شام نے اسے (مجھ سے) چھین لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4101]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4101 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن ابی جعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں مکہ (کی جانب) سے مدینہ آئے، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا۔۔۔ اور انہوں نے (ان سے) مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کر دو۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ (ویسے ہی) آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ مجھے فروخت کر دو۔ میں نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ میں نے کہا: ایک آدمی کا میرے ذمے سونے کا ایک اوقیہ (تقریبا 29 گرام) ہے، اس کے عوض یہ آپ کا ہوا۔ آپ نے فرمایا: میں نے لے لیا، تم اس پر مدینہ تک پہنچ جاؤ۔ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: انہیں ایک اوقیہ سونا اور کچھ زیادہ بھی دو۔ کہا: انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زائد دیا۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ زائد عطیہ مجھ سے کبھی الگ نہ ہو گا۔ کہا: تو وہ میری تھیلی میں رہا حتیٰ کہ حرہ کی جنگ کے دن اہل شام نے اسے (مجھ سے) چھین لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4101]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِي: " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ " وَزَادَ أَيْضًا قَالَ: فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ: " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابونضرہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، میرا اونٹ پیچھے رہ گیا۔۔ اور (پوری) حدیث بیان کی اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا، پھر مجھ سے فرمایا: اللہ کا نام لے کر سوار ہو جاؤ۔ اور یہ اضافہ بھی کیا، کہا: آپ مسلسل مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے اور فرماتے رہے: اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4102]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4102 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِي: " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ " وَزَادَ أَيْضًا قَالَ: فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ: " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابونضرہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، میرا اونٹ پیچھے رہ گیا۔۔ اور (پوری) حدیث بیان کی اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا، پھر مجھ سے فرمایا: اللہ کا نام لے کر سوار ہو جاؤ۔ اور یہ اضافہ بھی کیا، کہا: آپ مسلسل مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے اور فرماتے رہے: اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4102]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، قَالَ: فَنَخَسَهُ، فَوَثَبَ فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ، فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِعْنِيهِ، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا تو آپ نے اسے کچوکا لگایا، وہ اچھل پڑا۔ اس کے بعد میں اس کی لگام کھینچتا تاکہ آپ کی بات سنوں لیکن میں اس پر قابونہ پا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ملے تو فرمایا: یہ مجھے بیچ دو۔ میں نے وہ (اونٹ) آپ کو پانچ اوقیہ (چاندی جو ایک اوقیہ سونے کے برابر تھی) کے عوض فروخت کر دیا۔ میں نے کہا: اس شرط پر کہ مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) میرے لیے ہو گی۔ آپ نے فرمایا: مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) تمہاری ہو گی۔ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، اس (اونٹ) کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے مجھے ایک اوقیہ (طے شدہ قیمت کا چوتھا حصہ) زائد دیا، پھر آپ نے مجھے (اونٹ بھی) ہبہ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4103]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4103 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، قَالَ: فَنَخَسَهُ، فَوَثَبَ فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ، فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِعْنِيهِ، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا تو آپ نے اسے کچوکا لگایا، وہ اچھل پڑا۔ اس کے بعد میں اس کی لگام کھینچتا تاکہ آپ کی بات سنوں لیکن میں اس پر قابونہ پا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ملے تو فرمایا: یہ مجھے بیچ دو۔ میں نے وہ (اونٹ) آپ کو پانچ اوقیہ (چاندی جو ایک اوقیہ سونے کے برابر تھی) کے عوض فروخت کر دیا۔ میں نے کہا: اس شرط پر کہ مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) میرے لیے ہو گی۔ آپ نے فرمایا: مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) تمہاری ہو گی۔ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، اس (اونٹ) کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے مجھے ایک اوقیہ (طے شدہ قیمت کا چوتھا حصہ) زائد دیا، پھر آپ نے مجھے (اونٹ بھی) ہبہ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4103]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ، قَالَ: غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: " يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومتوکل ناجی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کیا۔۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے جنگی سفر کہا۔۔ اور حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! کیا تم نے پوری قیمت لے لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیمت بھی تمہاری، اونٹ بھی تمہارا، (پھر فرمایا:) قیمت بھی تمہاری، اونٹ بھی تمہارا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4104]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4104 صحیح مسلم
عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ، قَالَ: غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: " يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومتوکل ناجی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کیا۔۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے جنگی سفر کہا۔۔ اور حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! کیا تم نے پوری قیمت لے لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیمت بھی تمہاری، اونٹ بھی تمہارا، (پھر فرمایا:) قیمت بھی تمہاری، اونٹ بھی تمہارا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4104]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ : أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ، فَأَرْجَحَ لِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں میں اونٹ خریدا۔ جب آپ صرار (کے مقام پر) آئے تو آپ نے گائے (ذبح کرنے) کا حکم دیا، وہ ذبح کی گئی، لوگوں نے اسے کھایا، جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ آپ نے میرے لیے اونٹ کی قیمت (کے برابر سونے یا چاندی) کا وزن کیا اور میرے لیے پلڑا جھکا دیا۔ فائدہ: قیمت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے راوی محارب (بن وثار) کو وہم ہوا ہے جس طرح اگلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے، وہ اصل قیمت کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ سکے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب چاندی کے حساب سے اونٹ کی قیمت بتائی تو اس وقت چاندی کا ایک اوقیہ زائد دیے جانے کی بات کی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 4103) چاندی کے اس اوقیے کو غلطی سے سونے کے ایک اوقیے کے ساتھ ملا کر دو اوقیے کر دیا گیا ہے، ان احادیث میں قیمت یا سونے میں بیان کی گئی ہے یا اس کی قیمت کے برابر چاندی میں یا اسی کے برابر دیناروں میں۔ بعض نے اضافے کو قیمت کے ساتھ شامل کر دیا ہے جس سے التباس پیدا ہوا ہے۔ البتہ سب احادیث اصل مسئلہ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4105]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4105 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ : أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ، فَأَرْجَحَ لِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں میں اونٹ خریدا۔ جب آپ صرار (کے مقام پر) آئے تو آپ نے گائے (ذبح کرنے) کا حکم دیا، وہ ذبح کی گئی، لوگوں نے اسے کھایا، جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ آپ نے میرے لیے اونٹ کی قیمت (کے برابر سونے یا چاندی) کا وزن کیا اور میرے لیے پلڑا جھکا دیا۔ فائدہ: قیمت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے راوی محارب (بن وثار) کو وہم ہوا ہے جس طرح اگلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے، وہ اصل قیمت کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ سکے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب چاندی کے حساب سے اونٹ کی قیمت بتائی تو اس وقت چاندی کا ایک اوقیہ زائد دیے جانے کی بات کی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 4103) چاندی کے اس اوقیے کو غلطی سے سونے کے ایک اوقیے کے ساتھ ملا کر دو اوقیے کر دیا گیا ہے، ان احادیث میں قیمت یا سونے میں بیان کی گئی ہے یا اس کی قیمت کے برابر چاندی میں یا اسی کے برابر دیناروں میں۔ بعض نے اضافے کو قیمت کے ساتھ شامل کر دیا ہے جس سے التباس پیدا ہوا ہے۔ البتہ سب احادیث اصل مسئلہ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4105]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٌ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ، وَقَالَ: أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی قصہ بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: آپ نے مجھ سے اونٹ قیمتاً خرید لیا جس کی انہوں (جابر رضی اللہ عنہ) نے تعیین بھی کی، (اس روایت میں) انہوں نے دو اوقیہ، ایک درہم اور دو درہموں کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا: آپ نے گائے کا حکم دیا تو اسے ذبح کیا گیا، پھر آپ نے اس کا گوشت تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4106]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4106 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٌ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ، وَقَالَ: أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی قصہ بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: آپ نے مجھ سے اونٹ قیمتاً خرید لیا جس کی انہوں (جابر رضی اللہ عنہ) نے تعیین بھی کی، (اس روایت میں) انہوں نے دو اوقیہ، ایک درہم اور دو درہموں کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا: آپ نے گائے کا حکم دیا تو اسے ذبح کیا گیا، پھر آپ نے اس کا گوشت تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4106]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے تمہارا اونٹ چار دینار (جو سونے کے ایک اوقیہ کے برابر ہے) میں لیا اور مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) کا حق تمہارا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4107]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4107 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے تمہارا اونٹ چار دینار (جو سونے کے ایک اوقیہ کے برابر ہے) میں لیا اور مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) کا حق تمہارا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4107]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة