بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: درخت لگانے کی اور کھیتی کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا باب: درخت لگانے کی اور کھیتی کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1552 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، إِلَّا كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَكَلَتِ الطَّيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ، وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان (جو) درخت لگاتا ہے، اس میں سے جو بھی کھایا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے، اور اس میں سے جو چوری کیا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جنگلی جانور اس میں سے جو کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی اس میں (کسی طرح کی) کمی نہیں کرتا مگر وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3968]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3968 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، إِلَّا كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَكَلَتِ الطَّيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ، وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان (جو) درخت لگاتا ہے، اس میں سے جو بھی کھایا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے، اور اس میں سے جو چوری کیا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جنگلی جانور اس میں سے جو کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی اس میں (کسی طرح کی) کمی نہیں کرتا مگر وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3968]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1552 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ "، فَقَالَتْ: بَلْ مُسْلِمٌ، فَقَالَ: " لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ، وَلَا دَابَّةٌ، وَلَا شَيْءٌ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کے نخلستان میں تشریف لے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے عرض کی: بلکہ مسلمان نے۔ تو آپ نے فرمایا: جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے، پھر اس میں سے انسان، چوپایہ یا کوئی بھی (جانور) کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3969]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3969 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ "، فَقَالَتْ: بَلْ مُسْلِمٌ، فَقَالَ: " لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ، وَلَا دَابَّةٌ، وَلَا شَيْءٌ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کے نخلستان میں تشریف لے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے عرض کی: بلکہ مسلمان نے۔ تو آپ نے فرمایا: جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے، پھر اس میں سے انسان، چوپایہ یا کوئی بھی (جانور) کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3969]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1552 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا زَرْعًا، فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبُعٌ، أَوْ طَائِرٌ، أَوْ شَيْءٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ "، وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ: طَائِرٌ شَيْءٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حاتم اور ابن ابی خلف نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں رَوح نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جو بھی مسلمان آدمی درخت لگاتا ہے اور کاشتکاری کرتا ہے، پھر اس سے کوئی جنگلی جانور، پرندہ یا کوئی بھی کھائے تو اس کے لیے اس میں اجر ہے۔ ابن ابی خلف نے (یا کے بغیر) پرندہ کوئی چیز کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3970]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3970 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا زَرْعًا، فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبُعٌ، أَوْ طَائِرٌ، أَوْ شَيْءٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ "، وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ: طَائِرٌ شَيْءٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حاتم اور ابن ابی خلف نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں رَوح نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جو بھی مسلمان آدمی درخت لگاتا ہے اور کاشتکاری کرتا ہے، پھر اس سے کوئی جنگلی جانور، پرندہ یا کوئی بھی کھائے تو اس کے لیے اس میں اجر ہے۔ ابن ابی خلف نے (یا کے بغیر) پرندہ کوئی چیز کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3970]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1552 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا، فَقَالَ: " يَا أُمَّ مَعْبَدٍ، مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ "، فَقَالَتْ: بَلْ مُسْلِمٌ، قَالَ: " فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا، فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ، وَلَا دَابَّةٌ، وَلَا طَيْرٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام مبشر رضی اللہ عنہا (خلیدہ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ، ان کی دوسری کنیت ام مبشر بھی تھی) کے پاس باغ میں تشریف لے گئے تو آپ نے پوچھا: ام مبشر! یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے عرض کی: بلکہ مسلمان نے۔ آپ نے فرمایا: جو بھی مسلمان درخت لگاتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، چوپایہ اور پرندہ نہیں کھاتا مگر وہ اس کے لیے قیامت کے دن تک صدقہ ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3971]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3971 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا، فَقَالَ: " يَا أُمَّ مَعْبَدٍ، مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ "، فَقَالَتْ: بَلْ مُسْلِمٌ، قَالَ: " فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا، فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ، وَلَا دَابَّةٌ، وَلَا طَيْرٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام مبشر رضی اللہ عنہا (خلیدہ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ، ان کی دوسری کنیت ام مبشر بھی تھی) کے پاس باغ میں تشریف لے گئے تو آپ نے پوچھا: ام مبشر! یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے عرض کی: بلکہ مسلمان نے۔ آپ نے فرمایا: جو بھی مسلمان درخت لگاتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، چوپایہ اور پرندہ نہیں کھاتا مگر وہ اس کے لیے قیامت کے دن تک صدقہ ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3971]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1552 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، عَمْرٌو ، عَمَّارٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، أُمِّ مُبَشِّرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جميعا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ عَمَّارٍ . ح وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَا: عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ: عَنْ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ: عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: رُبَّمَا قَالَ: عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ، وَكُلُّهُمْ قَالُوا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَاءٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی، نیز ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے روایت کی، اور عمرو ناقد نے کہا: ہمیں عمار بن محمد نے حدیث بیان کی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابن فُضیل نے حدیث بیان کی، ان سب (حفص، ابومعاویہ، عمار اور ابن فضیل) نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان (واسطی) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ عمرو (ناقد) نے عمار سے روایت کردہ روایت میں اور ابوکریب نے ابومعاویہ سے روایت کردہ اپنی روایت میں کہا: ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ ابن فضیل کی روایت میں ہے: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سے روایت ہے، ابومعاویہ سے اسحاق کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا: کبھی انہوں نے (ابومعاویہ) نے کہا: ام مبشر نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی اور بسا اوقات انہوں نے (ام مبشر) نہیں کہا۔ ان سب نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے۔۔۔ (آگے) عطاء، اور ابوزبیر اور عمرو بن دینار کی حدیث (3971-3974) کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3972]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3972 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، عَمْرٌو ، عَمَّارٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، أُمِّ مُبَشِّرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جميعا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ عَمَّارٍ . ح وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَا: عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ: عَنْ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ: عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: رُبَّمَا قَالَ: عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ، وَكُلُّهُمْ قَالُوا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَاءٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی، نیز ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے روایت کی، اور عمرو ناقد نے کہا: ہمیں عمار بن محمد نے حدیث بیان کی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابن فُضیل نے حدیث بیان کی، ان سب (حفص، ابومعاویہ، عمار اور ابن فضیل) نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان (واسطی) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ عمرو (ناقد) نے عمار سے روایت کردہ روایت میں اور ابوکریب نے ابومعاویہ سے روایت کردہ اپنی روایت میں کہا: ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ ابن فضیل کی روایت میں ہے: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سے روایت ہے، ابومعاویہ سے اسحاق کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا: کبھی انہوں نے (ابومعاویہ) نے کہا: ام مبشر نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی اور بسا اوقات انہوں نے (ام مبشر) نہیں کہا۔ ان سب نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے۔۔۔ (آگے) عطاء، اور ابوزبیر اور عمرو بن دینار کی حدیث (3971-3974) کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3972]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1553 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ، أَوْ إِنْسَانٌ، أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان نہیں جو درخت لگائے یا کاشتکاری کرے، پھر اس سے کوئی پرندہ، انسان یا چوپایہ کھائے مگر اس کے بدلے میں اس کے لیے صدقہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3973]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3973 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ، أَوْ إِنْسَانٌ، أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان نہیں جو درخت لگائے یا کاشتکاری کرے، پھر اس سے کوئی پرندہ، انسان یا چوپایہ کھائے مگر اس کے بدلے میں اس کے لیے صدقہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3973]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1553 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ "، قَالُوا: مُسْلِمٌ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابان بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انصار کی ایک عورت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے نخلستان میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کسی کافر نے؟ ان لوگوں نے کہا: مسلمان نے۔۔۔ (آگے) ان سب کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3974]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3974 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ "، قَالُوا: مُسْلِمٌ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابان بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انصار کی ایک عورت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے نخلستان میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کسی کافر نے؟ ان لوگوں نے کہا: مسلمان نے۔۔۔ (آگے) ان سب کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3974]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة