بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اناج کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم لین دین کے مسائل باب: اناج کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 1548 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، رَجُلٌ مَنْ عُمُومَتِي
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَجَاءَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مَنْ عُمُومَتِي ، فَقَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ، فَنُكْرِيَهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا، أَوْ يُزْرِعَهَا، وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے یعلیٰ بن حکیم سے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ہم زمین کو اس کی پیداوار کے حصے پر دیتے تھے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور (اس کے ساتھ) متعین مقدار میں غلے کے عوض کرائے پر دیتے، ایک روز ہمارے پاس میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا ہے جو ہمارے لیے نفع مند تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے، آپ نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم زمین کو بٹائی پر دیں اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور متعین غلے کے عوض کرائے پر دیں۔ اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود اس میں کاشت کرے یا کاشت کے لیے (اپنے مسلمان بھائی کو) دے دے اور آپ نے اس کے کرائے پر دینے اور اس کے سوا (غلے کے ایک متعین حصے پر دینے) کو ناپسند کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3945]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3945 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، رَجُلٌ مَنْ عُمُومَتِي
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَجَاءَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مَنْ عُمُومَتِي ، فَقَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ، فَنُكْرِيَهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا، أَوْ يُزْرِعَهَا، وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے یعلیٰ بن حکیم سے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ہم زمین کو اس کی پیداوار کے حصے پر دیتے تھے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور (اس کے ساتھ) متعین مقدار میں غلے کے عوض کرائے پر دیتے، ایک روز ہمارے پاس میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا ہے جو ہمارے لیے نفع مند تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے، آپ نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم زمین کو بٹائی پر دیں اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور متعین غلے کے عوض کرائے پر دیں۔ اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود اس میں کاشت کرے یا کاشت کے لیے (اپنے مسلمان بھائی کو) دے دے اور آپ نے اس کے کرائے پر دینے اور اس کے سوا (غلے کے ایک متعین حصے پر دینے) کو ناپسند کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3945]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1548 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ، فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے خبر دی، انہوں نے کہا: یعلیٰ بن حکیم نے میری طرف لکھا، انہوں نے کہا: میں نے سلیمان بن یسار سے سنا، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہم زمین کو بٹائی پر دیتے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے پر کرائے پر دیتے تھے۔۔۔ آگے ابن علیہ کی (سابقہ) حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3946]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3946 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ، فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے خبر دی، انہوں نے کہا: یعلیٰ بن حکیم نے میری طرف لکھا، انہوں نے کہا: میں نے سلیمان بن یسار سے سنا، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہم زمین کو بٹائی پر دیتے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے پر کرائے پر دیتے تھے۔۔۔ آگے ابن علیہ کی (سابقہ) حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3946]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1548 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدَةُ ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عروبہ نے یعلیٰ بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3947]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3947 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدَةُ ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عروبہ نے یعلیٰ بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3947]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1548 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن حازم نے یعلیٰ بن حکیم کی اسی سند کے ساتھ روایت کی، انہوں نے (سلیمان کے واسطے سے) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، انہوں نے (اپنے چچاؤں میں سے ایک) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3948]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3948 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن حازم نے یعلیٰ بن حکیم کی اسی سند کے ساتھ روایت کی، انہوں نے (سلیمان کے واسطے سے) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، انہوں نے (اپنے چچاؤں میں سے ایک) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3948]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1548 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَبُو مُسْهِرٍ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبِي النَّجَاشِيِّ ، رَافِعٍ ، ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ : أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ ، وَهُوَ عَمُّهُ، قَالَ: أَتَانِي ظُهَيْرٌ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ: سَأَلَنِي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ فَقُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى الرَّبِيعِ، أَوِ الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ، أَوِ الشَّعِيرِ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے، کہا: ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے۔ کہا: آپ نے مجھ سے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر (کے کناروں کی پیداوار) پر یا کھجور یا جو کے (متعینہ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تو ایسا نہ کرو، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3949]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3949 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَبُو مُسْهِرٍ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبِي النَّجَاشِيِّ ، رَافِعٍ ، ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ : أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ ، وَهُوَ عَمُّهُ، قَالَ: أَتَانِي ظُهَيْرٌ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ: سَأَلَنِي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ فَقُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى الرَّبِيعِ، أَوِ الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ، أَوِ الشَّعِيرِ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے، کہا: ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے۔ کہا: آپ نے مجھ سے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر (کے کناروں کی پیداوار) پر یا کھجور یا جو کے (متعینہ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تو ایسا نہ کرو، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3949]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1548 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، أَبِي النَّجَاشِيِّ ، رَافِعٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْ رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے، انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3950]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3950 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، أَبِي النَّجَاشِيِّ ، رَافِعٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْ رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے، انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3950]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة