بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم غلامی سے آزادی کا بیان باب: ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر اسے آزاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس کے مالکوں نے کہا: ہم اس شرط پر یہ کنیز آپ کو بیچیں گے کہ اس کا حقِ ولاء ہمارا ہو گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ (شرط) تمہیں (اس کو خرید کر آزاد کرنے سے) نہ روکے (اس کنیز کو ضرور آزادی ملنی چاہئے) بلاشبہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے (غلام یا کنیز کو) آزاد کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3776]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3776 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر اسے آزاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس کے مالکوں نے کہا: ہم اس شرط پر یہ کنیز آپ کو بیچیں گے کہ اس کا حقِ ولاء ہمارا ہو گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ (شرط) تمہیں (اس کو خرید کر آزاد کرنے سے) نہ روکے (اس کنیز کو ضرور آزادی ملنی چاہئے) بلاشبہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے (غلام یا کنیز کو) آزاد کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3776]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے روایت کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی۔ وہ ان سے اپنی مکاتبت (قیمت ادا کر کے آزادی کا معاہدہ کرنے) کے سلسلے میں مدد مانگ رہی تھی، اس نے اپنی مکاتبت کی رقم میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت کی رقم ادا کروں اور تمہارا حقِ ولاء میرے لیے ہو، تو میں (تمہاری قیمت کی ادائیگی) کر دوں گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ اپنے مالکوں سے کہی تو انہوں نے انکار کر دیا، اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ نیکی کرنا چاہتی ہیں تو کریں، لیکن تمہاری ولاء کا حق ہمارا ہی ہو گا۔ اس پر انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: تم خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (منبر پر) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب (کی تعلیمات) میں نہیں۔ جس نے ایسی شرط رکھی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو اسے اس کا کوئی حق نہیں چاہے وہ سو مرتبہ شرط رکھ لے۔ اللہ کی شرط زیادہ حق رکھتی ہے اور وہی زیادہ مضبوط ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3777]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3777 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے روایت کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی۔ وہ ان سے اپنی مکاتبت (قیمت ادا کر کے آزادی کا معاہدہ کرنے) کے سلسلے میں مدد مانگ رہی تھی، اس نے اپنی مکاتبت کی رقم میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت کی رقم ادا کروں اور تمہارا حقِ ولاء میرے لیے ہو، تو میں (تمہاری قیمت کی ادائیگی) کر دوں گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ اپنے مالکوں سے کہی تو انہوں نے انکار کر دیا، اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ نیکی کرنا چاہتی ہیں تو کریں، لیکن تمہاری ولاء کا حق ہمارا ہی ہو گا۔ اس پر انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: تم خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (منبر پر) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب (کی تعلیمات) میں نہیں۔ جس نے ایسی شرط رکھی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو اسے اس کا کوئی حق نہیں چاہے وہ سو مرتبہ شرط رکھ لے۔ اللہ کی شرط زیادہ حق رکھتی ہے اور وہی زیادہ مضبوط ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3777]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فَقَالَ: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر مکاتبت (قیمت کی ادائیگی پر آزاد ہو جانے کا معاہدہ) کیا ہے، ہر سال میں ایک اوقیہ (40 درہم ادا کرنا) ہے، آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی ہے اور (اس میں) یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ان کی یہ بات (بریرہ کو آزاد کرنے سے) نہ روکے۔ اسے خریدو اور آزاد کر دو۔ اور (یونس نے) حدیث میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: امابعد! (خطبہ دیا جس میں شرط والی بات ارشاد فرمائی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3778]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3778 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فَقَالَ: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر مکاتبت (قیمت کی ادائیگی پر آزاد ہو جانے کا معاہدہ) کیا ہے، ہر سال میں ایک اوقیہ (40 درہم ادا کرنا) ہے، آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی ہے اور (اس میں) یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ان کی یہ بات (بریرہ کو آزاد کرنے سے) نہ روکے۔ اسے خریدو اور آزاد کر دو۔ اور (یونس نے) حدیث میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: امابعد! (خطبہ دیا جس میں شرط والی بات ارشاد فرمائی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3778]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَانْتَهَرْتُهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، فَفَعَلْتُ، قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے مالکوں نے میرے ساتھ 9 سالوں میں 9 اوقیہ (کی ادائیگی) کے بدلے مکاتبت کی ہے۔ ہر سال میں ایک اوقیہ (ادا کرنا) ہے۔ میری مدد کریں۔ میں نے اس سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں انہیں یکمشت گن کر دوں اور تمہیں آزاد کر دوں اور ولاء کا حق میرا ہو، تو میں ایسا کر لوں گی۔ اس نے یہ بات اپنے مالکوں سے کی تو انہوں نے (اسے ماننے سے) انکار کر دیا الا یہ کہ حقِ ولاء ان کا ہو۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آئی اور یہ بات مجھے بتائی۔ کہا: تو میں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا، اور کہا: اللہ کی قسم! پھر ایسا نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات سنی تو مجھ سے پوچھا، میں نے آپ کو (پوری) بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے خریدو اور آزاد کر دو، ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ لو، کیونکہ (اصل میں تو) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا جو اس کے شایانِ شان تھی بیان کی، پھر فرمایا: امابعد! لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں (جائز) نہیں۔ جو بھی شرط اللہ کی کتاب میں (روا) نہیں، وہ باطل ہے، چاہے وہ سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب ہی سب سے سچی اور اللہ کی شرط سب سے مضبوط ہے۔ تم میں سے بعض لوگوں کو کیا ہوا ہے، ان میں سے کوئی کہتا ہے: فلاں کو آزاد تم کرو اور حقِ ولاء میرا ہو گا۔ (حالانکہ) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3779]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3779 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَانْتَهَرْتُهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، فَفَعَلْتُ، قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے مالکوں نے میرے ساتھ 9 سالوں میں 9 اوقیہ (کی ادائیگی) کے بدلے مکاتبت کی ہے۔ ہر سال میں ایک اوقیہ (ادا کرنا) ہے۔ میری مدد کریں۔ میں نے اس سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں انہیں یکمشت گن کر دوں اور تمہیں آزاد کر دوں اور ولاء کا حق میرا ہو، تو میں ایسا کر لوں گی۔ اس نے یہ بات اپنے مالکوں سے کی تو انہوں نے (اسے ماننے سے) انکار کر دیا الا یہ کہ حقِ ولاء ان کا ہو۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آئی اور یہ بات مجھے بتائی۔ کہا: تو میں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا، اور کہا: اللہ کی قسم! پھر ایسا نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات سنی تو مجھ سے پوچھا، میں نے آپ کو (پوری) بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے خریدو اور آزاد کر دو، ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ لو، کیونکہ (اصل میں تو) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا جو اس کے شایانِ شان تھی بیان کی، پھر فرمایا: امابعد! لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں (جائز) نہیں۔ جو بھی شرط اللہ کی کتاب میں (روا) نہیں، وہ باطل ہے، چاہے وہ سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب ہی سب سے سچی اور اللہ کی شرط سب سے مضبوط ہے۔ تم میں سے بعض لوگوں کو کیا ہوا ہے، ان میں سے کوئی کہتا ہے: فلاں کو آزاد تم کرو اور حقِ ولاء میرا ہو گا۔ (حالانکہ) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3779]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا عَنْ جَرِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ أَمَّا بَعْدُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، وکیع اور جریر سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابواسامہ کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، لیکن جریر کی حدیث میں ہے، کہا: اس (بریرہ رضی اللہ عنہا) کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے (شادی برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں) اختیار دیا تو اس نے خود کو (نکاح کی بندش سے آزاد دیکھنا) پسند کیا۔ اگر اس کا شوہر آزاد ہوتا تو آپ اسے یہ اختیار نہ دیتے، اور ان کی حدیث میں امابعد کے الفاظ نہیں ہیں (یہ الفاظ خطبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3780]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3780 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا عَنْ جَرِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ أَمَّا بَعْدُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، وکیع اور جریر سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابواسامہ کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، لیکن جریر کی حدیث میں ہے، کہا: اس (بریرہ رضی اللہ عنہا) کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے (شادی برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں) اختیار دیا تو اس نے خود کو (نکاح کی بندش سے آزاد دیکھنا) پسند کیا۔ اگر اس کا شوہر آزاد ہوتا تو آپ اسے یہ اختیار نہ دیتے، اور ان کی حدیث میں امابعد کے الفاظ نہیں ہیں (یہ الفاظ خطبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3780]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، قَالَتْ: وَعَتَقَتْ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَتْ: وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن عروہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین فیصلے ہوئے: اس کے مالکوں نے چاہا کہ اسے بیچ دیں اور اس کے حقِ ولاء کو (اپنے لیے) مشروط کر دیں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا: اسے خریدو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: وہ آزاد ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اختیار دیا، اس نے اپنی ذات (کو آزاد رکھنے) کا انتخاب کیا۔ (حضرت عائشہ نے) کہا: لوگ اس پر صدقہ کرتے تھے اور وہ (اس میں سے کچھ) ہمیں ہدیہ کرتی تھی، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا: وہ اس پر صدقہ ہے اور تم لوگوں کے لیے ہدیہ ہے، لہذا اسے کھا لیا کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3781]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3781 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، قَالَتْ: وَعَتَقَتْ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَتْ: وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن عروہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین فیصلے ہوئے: اس کے مالکوں نے چاہا کہ اسے بیچ دیں اور اس کے حقِ ولاء کو (اپنے لیے) مشروط کر دیں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا: اسے خریدو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: وہ آزاد ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اختیار دیا، اس نے اپنی ذات (کو آزاد رکھنے) کا انتخاب کیا۔ (حضرت عائشہ نے) کہا: لوگ اس پر صدقہ کرتے تھے اور وہ (اس میں سے کچھ) ہمیں ہدیہ کرتی تھی، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا: وہ اس پر صدقہ ہے اور تم لوگوں کے لیے ہدیہ ہے، لہذا اسے کھا لیا کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3781]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ "، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سماک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو انصار کے لوگوں سے خریدا، انہوں نے ولاء کی شرط لگائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ولاء (کا حق) اسی کے لیے ہے جس نے (آزادی کی) نعمت کا اہتمام کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اختیار دیا جبکہ اس کا شوہر غلام تھا۔ اور اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت ہدیہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے لیے اس گوشت سے (سالن) تیار کرتیں؟ حضرت عائشہ نے کہا: یہ (گوشت) بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3782]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3782 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ "، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سماک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو انصار کے لوگوں سے خریدا، انہوں نے ولاء کی شرط لگائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ولاء (کا حق) اسی کے لیے ہے جس نے (آزادی کی) نعمت کا اہتمام کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اختیار دیا جبکہ اس کا شوہر غلام تھا۔ اور اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت ہدیہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے لیے اس گوشت سے (سالن) تیار کرتیں؟ حضرت عائشہ نے کہا: یہ (گوشت) بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3782]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ "، وَخُيِّرَتْ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا، فَقَالَ: لَا أَدْرِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو ان لوگوں (مالکوں) نے اس کی ولاء کی شرط لگا دی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے خریدو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے (بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے) گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا تو انہوں (گھر والوں) نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ اور اسے اختیار دیا گیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا: اس کا شوہر آزاد تھا۔ شعبہ نے کہا: میں نے پھر سے اس کے شوہر کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا (وہ آزاد تھا یا غلام۔ شک کے بغیر، یقین کے ساتھ کی گئی روایت یہی ہے کہ وہ غلام تھا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3783]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3783 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ "، وَخُيِّرَتْ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا، فَقَالَ: لَا أَدْرِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو ان لوگوں (مالکوں) نے اس کی ولاء کی شرط لگا دی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے خریدو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے (بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے) گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا تو انہوں (گھر والوں) نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ اور اسے اختیار دیا گیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا: اس کا شوہر آزاد تھا۔ شعبہ نے کہا: میں نے پھر سے اس کے شوہر کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا (وہ آزاد تھا یا غلام۔ شک کے بغیر، یقین کے ساتھ کی گئی روایت یہی ہے کہ وہ غلام تھا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3783]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداؤد نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3784]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3784 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداؤد نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3784]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1504 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، وُهَيْبٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، وأَبُو هِشَامٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3785]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3785 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، وُهَيْبٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، وأَبُو هِشَامٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3785]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة